آصف زرداری کا استعفیٰ یا مڈ ٹرم انتخابات؟ایوانِ صدر کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی!

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)ملکی سیاست کے سب سے بڑے ایوان سے ایک مہیب اور سنسنی خیز خبر سامنے آئی ہے جہاں صدرِ پاکستان آصف علی زرداری پر مستعفی ہونے اور ایوانِ صدر خالی کرنے کے لیے مقتدر حلقوں کا شدید ترین دباؤ ہے۔
سینیئر تجزیہ کار امداد سومرو کے مطابق اس بڑے سیاسی زلزلے کی بنیادی وجہ پسِ پردہ تیار ہونے والی "28ویں آئینی ترمیم” ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے18ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے،این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کاٹ کر وفاق کو دینے اور ووٹر کی عمر18سال سے بڑھا کر25سال کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
باوثوق ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر زرداری کو دو ٹوک الٹی میٹم دے دیا گیا ہے کہ یا تو وہ اس ترمیم کو پاس کرانے میں ساتھ دیں، یا پھر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔
اس سنگین ترین صورتحال میں کراچی کے سیاسی میدان میں ایک ہنگامی اور بڑی صف بندی دیکھنے میں آئی ہے۔ جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے آصف زرداری کو حکومت چھوڑ کر میدان میں آنے کی کھلی دعوت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایوانِ صدر کی بلند عمارت میں بیٹھ کر آئین کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔ اس جارحانہ بیان کے فوراً بعد بلاول بھٹو کی خصوصی ہدایت پر سندھ کے سینیئر وزراء شرجیل انعام میمن اور ناصر حسین شاہ نے مولانا سے طویل بند کمرہ ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں آئین اور پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو ملک کے لیے تباہ کن قرار دیا گیا ہے، جو کہ مقتدر حلقوں کے خلاف ایک نئے گرینڈ الائنس اور ممکنہ مڈ ٹرم انتخابات کا واضح اشارہ ہے۔




