پنکی ڈون کیس میں دھماکہ خیز نام سامنے آ گئے!اشرافیہ کو بچانے کیلئے”مٹی پاؤ” پالیسی تیار

​کراچی(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)ملک کے سب سے بڑے منشیات اسکینڈل "پنکی ڈون” کیس میں ملوث بااثر شخصیات کے ہولناک نام سامنے آنے کے بعد سندھ حکومت اور مقتدر حلقوں میں شدید کھلبلی مچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق "کوکین کوئین” انمول عرف پنکی کے قبضے سے برآمد ہونے والے موبائل فون سے 2700 سے زائد کانٹیکٹس ملے ہیں، جن میں سے ابتدائی تفتیش کے دوران 800 ہائی پروفائل کسٹمرز کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ ان گاہکوں میں ملک کی بااثر ترین سیاسی و سماجی شخصیات شامل ہیں، جس کے بعد اب اشرافیہ کو بچانے کے لیے روایتی "مٹی پاؤ تے آگے جاؤ” پالیسی پر باقاعدہ عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر صوبائی وزیرِ داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے سندھ اسمبلی کے ایوان میں کھلم کھلا بیان دیا ہے کہ کوکین استعمال کرنے والے ان بااثر خریداروں کے نام پردے میں ہی رہنے چاہئیں۔

ملزمہ پنکی کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو سندھ پولیس نے میڈیا کو چکمہ دینے کے لیے ایک برقع پوش خاتون کو مرکزی دروازے سے داخل کیا جبکہ پنکی کو عقبی راستے سے لایا گیا۔ اس دوران پنکی نے صحافیوں کو دیکھ کر شور مچانا شروع کر دیا اور راجہ پرویز نامی کسی شخص کو پکارا، جس پر پولیس نے غوغا آرائی کر کے اس کی آواز کو دبانے کی شرمناک کوشش کی۔ اب میڈیا کے ساتھ ملزمہ کا رابطہ مکمل طور پر کاٹنے کے لیے اس کا جیل ٹرائل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ سنسنی خیز انکشافات کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکتا، بلکہ حیدرآباد اور کراچی میں منشیات سپلائی کرنے والے نیٹ ورکس کی سرغنہ خواتین امبرین عرف گڈی اور نرگس عرف ملکہ بھی گرفتار ہو چکی ہیں، اور یہ دونوں خواتین خود پولیس اہلکاروں کی بیویاں ہیں، جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ معاشرے کو اس گند سے پاک کرنے والے ادارے خود اس دھندے کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button