مالدیپ میں غاروں کی کھوج کے دوران 5 اطالوی غوطہ خور ڈوب کر ہلاک

مالدیپ(جانوڈاٹ پی کے)مالدیپ میں غاروں کی کھوج کے دوران 5 اطالوی غوطہ خور ڈوب کر ہلاک ہوگئے جن کی تلاش میں ایک ریسکیو اہلکار بھی جان سے گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سیاحتی ملک مالدیپ میں اسکوبا ڈائیونگ کے دوران افسوسناک واقعہ پیش آیا جب اٹلی سے آئے سیاح زیر سمندر غاروں کو دیکھنے گئے تھے۔
اطالوی محققین اپنے انسٹرکٹر کے ہمراہ جمعرات کی صبح واؤ اتل کے قریب سمندر میں غوطہ خوری کے لیے اترے تھے۔ ان کا مقصد تقریباً 50 میٹر گہرائی میں موجود زیرِ آب غاروں کی کھوج لگانا تھا۔
تاہم خراب موسم اور سمندری حالات کے باعث وہ کافی دیر تک بھی واپس سطحِ آب پر نہ آ سکے تو سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔ جس کے دوران ایک لاش تقریباً 60 میٹر گہرائی میں غار سے برآمد ہوئی۔
دیگر افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری تھا جس میں 8 اہلکاروں نے حصہ لیا جن میں سے 7 واپس سطح آب پر آگئے تو احساس ہوا کہ ایک ساتھی سمندر میں رہ گیا ہے۔
اپنے ساتھی اہلکار کی تلاش میں یہ غوطہ خور دوبارہ سمندر کی تہہ میں گئے تو محمد مہدی نامی ریسکیو اہلکار بے ہوشی کی حالت میں مل گیا۔ جنھیں اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔
مالدیپ کے صدر محمد معیز نے خود جائے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا اور فرائض کی انجام دہی کے دوران جاں بحق ہونے والے اہلکار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
ہلاک ہونے والے سیاحوں کا تعلق اٹلی کی یونیورسٹی آف جینوا سے تھا جن میں ماحولیات کی پروفیسر مونیکا مونٹی فالکن، ان کی بیٹی جارجیا سمواکل، دو محققین اور ایک ڈائیونگ انسٹرکٹر شامل تھا۔
یہ تمام افراد “ڈیوک آف یارک” نامی یاٹ پر سوار تھے جہاں سے انہوں نے غوطہ خوری کا آغاز کیا تھا۔ اس کشتی پر موجود دیگر 20 اطالوی شہری محفوظ ہیں اور انہیں سفارتی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ مالدیپ دنیا بھر میں مرجان کی چٹانوں، نیلے پانی اور اسکیوبا ڈائیونگ کے لیے مشہور ہے۔ ہر سال ہزاروں سیاح یہاں زیرِ آب حیات اور غاروں کی سیر کے لیے آتے ہیں۔
غاروں میں غوطہ خوری دنیا کے خطرناک ترین مشاغل میں شمار ہوتی ہے کیونکہ گہرائی، محدود راستے، کم روشنی اور آکسیجن کے مسائل غوطہ خوروں کو شدید خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔
مالدیپ کے قوانین کے تحت بھی غوطہ خوروں کو عموماً 30 میٹر سے زیادہ گہرائی میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
حکام اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اطالوی محققین کی ٹیم سمندر میں 60 میٹر گہرے غار تک کیوں اور کیسے پہنچی تھی۔



