افغان سرحد بھارت کے حوالے؟پاکستان کا سخت جواب

لاہور(خصوصی رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے)طالبان حکومت اور بھارت میں نئے سٹریٹجک معاہدے نے خطے میں سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جس کے تحت بھارت نے افغان طالبان کو45ملین ڈالر کی پہلی قسط جاری کر دی ہے۔اس رقم کے عوض افغانستان اپنی سرحدوں، بالخصوص پاکستان سے متصل نو حساس مقامات پر بھارت کو ‘کوالٹی کنٹرول لیبز’قائم کرنے کی اجازت دے گا جنہیں دفاعی ماہرین انٹیلی جنس شیئرنگ اور جاسوسی کے مراکز قرار دے رہے ہیں۔یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت تقریباً معطل ہے، جس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ ان لیبارٹریز کا اصل مقصد تجارتی معیار کی جانچ ہے یا پاکستانی سرحدوں کی نگرانی کرنا۔رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ان مراکز کے ذریعے بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کو قانونی کور ملے گا تاکہ وہ پاکستان میں مداخلت اور دہشتگردگروہوں کی معاونت کر سکے۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button