​نور خان ایئر بیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی ؟دفتر خارجہ کی دوٹوک وضاحت

​اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی میڈیا پر نشر ہونے والی ان خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے اپنے جنگی طیارے محفوظ رکھنے کے لیے راولپنڈی کی "نور خان ایئر بیس” پر منتقل کر دیے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، اس نوعیت کی قیاس آرائیاں من گھڑت ہیں اور ان کا مقصد خطے میں جاری امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

​ امریکی ٹی وی چینل ‘سی بی ایس’ پر اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے انٹرویو اور طیاروں کی موجودگی سے متعلق پروپیگنڈا دراصل پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم نے پاکستان پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ یہاں موجود "بوٹ فارمز” کے ذریعے عالمی سطح پر اسرائیل مخالف بیانیہ منظم کیا جا رہا ہے، تاہم حقائق بتاتے ہیں کہ خود اسرائیل اور بھارت دنیا کے سب سے بڑے ٹرول فارمز چلا رہے ہیں۔

​دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ نور خان ایئر بیس ایک انتہائی حساس اور گنجان آباد علاقے میں واقع ہے، جہاں کسی بھی غیر ملکی طیارے کی لینڈنگ یا پارکنگ کو مقامی آبادی اور بین الاقوامی سیٹلائٹ سے پوشیدہ رکھنا ناممکن ہے۔

ان جھوٹی خبروں کے پیچھے ‘سی بی ایس’ کے وہ مالکان ہو سکتے ہیں جن کے اسرائیل کے دفاعی اداروں کے ساتھ گہرے مراسم ہیں۔

​دوسری جانب، ایران نے امریکہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر دوبارہ حملہ ہوا تو وہ یورینیم کی افزودگی 90 فیصد تک بڑھا دے گا، جو کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کے برابر ہے۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے امریکہ کے بجائے پاکستان اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ نئے دفاعی معاہدوں کی جانب مائل ہو رہے ہیں۔

​صحافی: معظم فخر کا وی لاگ دیکھنے کے لئے لنک پر کلک کریں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button