’’پیارنہیں مار‘‘لاتوں کے بھوتوں کیلئے’’ڈنڈا‘‘لوٹ آیا
’’ڈنڈا پیر اےوگڑیاں تگڑیاں داں‘‘

تحریر:نہال معظم
سنگاپور کے اسکولوں میں سرکاری طور پر ڈنڈے کی واپسی ہوگئی ہے۔ اس خبر نے "مار نہیں پیار” کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ’’ڈنڈا پیر اےوگڑیاں تگڑیاں داں‘‘۔ ایک ایسے وقت میں جب جدید دنیا بچوں کو مکھن کی طرح نرم رکھنے کے فلسفے پر عمل پیرا تھی، سنگاپور نے اچانک بید زنی یعنی چھڑی کی واپسی کا اعلان کر کے یہ باور کرا دیا ہے کہ بعض اوقات شرافت کا راستہ ڈنڈے کے سائے سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہ دراصل ان "لاتوں کے بھوتوں” کے لیے ایک واضح پیغام ہے جو پیار کی زبان کو محض ایک کمزور لطیفہ سمجھتے ہیں اور جن کی اصلاح کے لیے نصیحت کی بجائے "چھترول” ہی وہ کیمیا ہے جو بگڑے ہوئے مزاجوں کو سدھارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سنگاپور نے اس سزا کے لیے جو حد بندی کی ہے وہ بھی بڑی دلچسپ ہے؛ یہ سزا صرف لڑکوں کے لیے مخصوص ہے اور اسے ہر کوئی نہیں دے سکتا، بلکہ صرف اسکول کے پرنسپل یا ان کے مقرر کردہ ڈسپلن ماسٹر کو ہی یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہتھیلی یا کپڑوں کے اوپر کولہوں پر زیادہ سے زیادہ تین ضربیں لگا سکیں۔ ہر سزا کا مکمل ریکارڈ رکھا جاتا ہے تاکہ ڈسپلن اور تشدد کے درمیان ایک قانونی لکیر برقرار رہے۔ یہ فیصلہ ان دانشوروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو سمجھتے تھے کہ ڈسپلن صرف پیار بھری تھپکی سے قائم کیا جا سکتا ہے، حالانکہ سنگاپور والوں نے اب مانا ہے کہ کبھی کبھی تھپکی کا رخ ذرا تبدیل کرنا ہی پڑتا ہے۔
پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں، جہاں کبھی استاد کی گھورتی ہوئی آنکھیں اور ہاتھ میں پکڑی چھڑی آدھی سے زیادہ کلاس کا ڈسپلن برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوتی تھی، وہاں بھی "نفسیاتی صدموں” کے خوف نے استاد کو بے بس کر دیا ہے۔ ہمیں تو وہ دور یاد ہے جب اسکول میں "مرغا” بننا کسی اولمپک کی ورزش سے کم نہ تھا، جہاں کانوں کو ہاتھ لگا کر توازن برقرار رکھنا ایک فنِ لطیف سمجھا جاتا تھا۔ آج کے بچے کو کیا معلوم کہ ڈیسک پر کھڑے ہو کر پوری کلاس کے سامنے "مجسمہ” بننے میں کتنی عبرت اور کتنی ہوا خوری ہوتی تھی۔ ہم نے مغرب کی دیکھا دیکھی جسمانی سزا تو ختم کر دی، لیکن اس کے بدلے جو "نفسیاتی سزائیں” ایجاد کیں وہ اس سے بھی زیادہ ہولناک نکلیں۔ اب بچہ کلاس سے باہر نکال دیا جائے تو وہ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا کر ڈپریشن میں چلا جاتا ہے، جبکہ پرانے دور میں کلاس سے باہر کھڑا ہونا ایک سنہری موقع ہوتا تھا کہ باہر سے گزرنے والے پرنسپل کو دیکھ کر مزید معصوم شکل بنا لی جائے۔
آجکل کے بچے جو سوشل میڈیا پر ہیرو بنتے ہیں اور اسکول میں کمزوروں کو ستانا یعنی "بلینگ” کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں، ان کے لیے سنگاپور کا یہ قانون کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہوگا۔ یہ کالم اسی حقیقت کا تجزیہ ہے کہ کیوں پیار کے نعروں نے معاشرے میں وہ تمیز پیدا نہیں کی جو کبھی "استاد کے ڈنڈے” سے پیدا ہوتی تھی۔ ہم نے ڈسپلن کو "ظلم” اور بدتمیزی کو "اظہارِ رائے کی آزادی” کا نام دے دیا، جس کا خمیازہ آج کے بکھرے ہوئے تعلیمی نظام کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ سنگاپور نے دکھا دیا ہے کہ اگر قوم کی جڑیں سدھارنی ہیں، تو کبھی کبھی مالی کو قینچی کا استعمال کرنا ہی پڑتا ہے، کیونکہ جب باتوں سے بھوت نہیں مانتے، تو پھر وہی پرانا نسخہ ہی کام آتا ہے جسے ہم "ڈنڈا پیر” کہتے ہیں۔ سنگاپور کی اس جرات مندی نے ثابت کیا ہے کہ ٹیکنالوجی میں آسمان کو چھونے کے باوجود وہ یہ نہیں بھولے کہ انسانی جبلت میں موجود شرارت کو لگام دینے کے لیے کبھی کبھی "جسمانی یاد دہانی” ضروری ہوتی ہے، ورنہ مرغا بننے کی صلاحیت کھو دینے والی نسلیں اکثر ذبح ہونے کے کام ہی آتی ہیں۔



