نیتن یاہوکا افزودہ یورینیم کی موجودگی تک ایران جنگ کے خاتمے سے انکار

تل ابیب(جانوڈاٹ پی کے)اسرائیلی وزیراعظم  نیتن یاہو نے افزودہ  یورینیم کی موجودگی تک  ایران  جنگ کے  خاتمے سے انکار کردیا ہے۔

امریکی  ٹی وی کو دیےگئے انٹرویو  میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران جنگ میں بہت کچھ حاصل کر لیا ہے، لیکن یہ ابھی ختم نہیں ہوئی،  ایران کے پاس اب بھی افزودہ یورینیم موجود ہے جسے ایران سے نکالنا ضروری ہے، یورینیم افزودگی کے ایسے مراکز موجود ہیں جنہیں ختم کرنا ہوگا، اب بھی ایسے گروہ موجود ہیں جن کی ایران حمایت کرتا ہے اور ایسے بیلسٹک میزائل بھی ہیں جنہیں وہ مزید بنانا چاہتے ہیں، ابھی بہت کام باقی ہے۔

 اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ  صدر ٹرمپ بھی  فوجی آپریشن کے ذریعے ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے پر آمادہ ہیں۔

نیتن یاہو  نے  واضح انداز میں کہا کہ اسرائیل کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرےگا جس میں امریکا  اور  ایران کے درمیان جنگ بندی تو  ہو جائے لیکن لبنان میں حزب اللہ  برقرار  رہے۔

انہوں نےکہا کہ  ایران چاہتا ہےکہ  اگر  یہاں جنگ بندی ہو جائے تو  وہاں بھی جنگ بندی ہوجائے،کیونکہ  وہ  چاہتے ہیں کہ حزب اللہ  وہاں  رہے اور  لبنان کو مسلسل اذیت دیتی رہے اور اس کے عوام کو ‘ یرغمال’ بنائے رکھے۔  اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ  ٹرمپ میری بات سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران کی حکومت کمزور یا ختم ہو جاتی ہے تو اس کا پورا پراکسی نیٹ ورک بھی ختم ہو جائےگا، حزب اللہ، حماس اور  شاید حوثیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے، ایران نے پراکسی گروپوں کا جو  پورا ڈھانچہ کھڑا کیا ہے، وہ ایرانی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی گرجائےگا۔

ایران میں رجیم چینج کے امکان پر  نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے مگر یقینی نہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے  تسلیم کیا کہ جنگ سے پہلے کی منصوبہ بندی میں آبنائے ہرمز کی بندش کے مسئلےکا مکمل اندازہ نہیں لگایا گیا تھا۔

نیتین یاہو نے الزام لگایا کہ چین میزائل کی تیاری میں ایران کی مدد کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین نے میزائل سازی کے کچھ مخصوص پرزے فراہم کیے، لیکن میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔

عرب ممالک کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض عرب ممالک کی جانب سے ایسے پیغامات مل رہے ہیں جن میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ  وہ آئندہ 10  برسوں میں اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار سے آزاد کرنا چاہتے ہیں۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ  میں چاہتا ہوں کہ امریکا کی مالی مدد خاص طور پر فوجی تعاون کے مالی حصےکو صفر تک لایا جائے،  اب وقت آگیا ہے کہ ہم باقی ماندہ فوجی امداد پر انحصار ختم کریں اور امداد کے تعلق کو شراکت داری میں بدل دیں، اسرائیل کو ہر سال تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد ملتی ہے۔

خیال رہے کہ  امریکا نے 2018 سے 2028 تک اسرائیل کو مجموعی طور پر 38 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button