بدین:پاکستان فشر فوک فورم کاماہی گیروں کو ہراساں کرنے کیخلاف ہنگامی اجلاس

بدین(رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے )ساحلی علاقوں میں ماہی گیروں کو ہراساں کرنے کے خلاف فشر فوک فورم کا ہنگامی اجلاس ، حکومت فیلڈمارشل اور ڈی جی رینجرز سے نوٹس لینے کا مطالبہ
پاکستان فشر فوک فورم کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک سیکورٹی ادارے کی طرف سے ایک بار پھر بدین کے ساحلی علاقوں کی جھیلوں اور گردونواح سے ماہی گیروں کو بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے لیے مختلف چیک پوسٹوں پر ماہی گیروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ مقام ماہی گیر عہدیدران کا کہنا ہے کہ پاکستان فشر فوک فورم کے مرحوم چیئرمین سید محمد علی شاہ کی قیادت میں کی جانے والی تاریخی جدوجہد کے نتیجے میں ماضی میں ماہی گیروں کو سمندر میں مچھلی کے شکار کا حق دلایا گیا تھا، اور ان کی آواز سندھ، پاکستان سمیت عالمی سطح پر ماہی گیر تنظیموں تک پہنچی۔ اس جدوجہد میں سیاسی، سماجی، قومپرست جماعتوں اور میڈیا نے بھی ساتھ دیا، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی فشر فوک فورم کی حمایت کی۔ رہنماؤں نے بتایا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں نافذ رینجرز کے ٹھیکیداری نظام اور قبضے کو 2005 میں ختم کیا گیا، جس کے بعد ماہی گیروں کو آزادانہ طور پر مچھلی پکڑنے کا حق ملا۔ بعد ازاں 2011 میں سندھ اسمبلی نے 1980 ایکٹ کے تحت ٹھیکیداری نظام کا خاتمہ کر کے لائسنس سسٹم متعارف کرایا، جس کے تحت ماہی گیر فشریز ڈیپارٹمنٹ سے لائسنس حاصل کر کے قانونی طور پر روزگار کر رہے ہیں، فشر فوک فورم کے ضلعی صدر جن میں نبی بخش ملاح، دیگر عہدیدران رحیم چانڈانی، محمد عمر ملاح، قاسم بچو، سومار لوہار، محمد مٹھن ملاح، عبدالرزاق ملاح، میہسر دھانڈل، غلام محمد پھنور اور اللہ بچایو ملاح نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 24 سے 25 سال بعد ایک بار پھر رینجرز ساحلی پٹی پر قبضے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ اس دوران کبھی ایسی پابندیاں عائد نہیں کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف چیک پوسٹوں، جن میں مارا کمپنی، نیو مارا، وکیل موری، جاتی، سمات اور زیرو گونگڑو شامل ہیں، پر ماہی گیروں کو گھنٹوں قطاروں میں کھڑا کر کے پرچیاں جاری کی جا رہی ہیں، حالانکہ ماہی گیروں کے پاس فشریز ڈیپارٹمنٹ کا جاری کردہ لائسنس اور قومی شناختی کارڈ موجود ہوتا ہے۔ اس کے باوجود انہیں دوبارہ پرچی لینے اور جمع کرانے کا پابند بنایا جا رہا ہے۔ ماہی گیر رہنماؤں کے مطابق یہ عمل ماہی گیروں کے روزگار پر حملہ ہے اور سمندر پر دوبارہ ٹھیکیداری نظام مسلط کرنے کی کوشش ہے، جس سے ماہی گیروں کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اور وہ شکار سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث ہزاروں خاندان شدید معاشی مشکلات اور فاقہ کشی کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت، صدر پاکستان، وزیر اعظم، چیف آف آرمی اسٹاف، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر فشریز، ڈی جی رینجرز اور ڈی جی فشریز سمیت دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ بدین کے ساحلی علاقوں میں رینجرز کی مبینہ زیادتیوں کا نوٹس لے کر ماہی گیروں کو انصاف فراہم کیا جائے۔



