ایران کے خلاف 30 ممالک نے ہاتھ ملا لیے، خطے میں نئی جنگ کا خطرہ!

​لاہور : تازہ ترین رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)​عالمی منظر نامے پر ایک بڑی ہلچل مچ گئی ہے جہاں لندن میں 30 سے زائد ممالک کا ایک اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ اس کانفرنس کا بظاہر مقصد ‘آبنائے ہرمز’ (Strait of Hormuz) کی سیکورٹی کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینا بتایا جا رہا ہے تاکہ عالمی تجارت کو بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان ممالک میں اکثریت نیٹو ممبران کی ہے اور یہ قدم دراصل ایران کے بحری اثر و رسوخ کو ختم کرنے اور امریکہ کے بالواسطہ کنٹرول کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ ایران اور عمان، جو اس سٹریٹجک روٹ کے براہ راست فریق ہیں، اس کانفرنس کا حصہ نہیں ہیں، جس سے خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ یہ اتحاد ایران کے خلاف کسی بڑی کارروائی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

​دوسری جانب افغانستان سے ایک عجیب و غریب خبر سامنے آئی ہے جہاں افغان طالبان سے وابستہ ہیکرز نے بھارت کے چار بڑے علاقائی ٹی وی چینلز (ہندی، کناڈا، تیلگو اور پنجابی) کا براڈ کاسٹ سسٹم ہیک کر کے وہاں افغانستان کا قومی ترانہ چلا دیا ہے۔ یہ واقعہ بھارت اور طالبان کے درمیان حالیہ کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ تہران سے بھی صبح سویرے پانچ دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس سے جنگ دوبارہ چھڑنے کا خوف پیدا ہوا، تاہم ایرانی حکام نے اسے اپنے ایئر ڈیفنس سسٹم کی ٹیسٹنگ قرار دے کر صورتحال کو پرسکون کرنے کی کوشش کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کو اس وقت جذبات کے بجائے عقل و دانش سے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی اتحاد کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

​اس حساس عالمی صورتحال، لندن کانفرنس کے پسِ پردہ مقاصد اور افغان ہیکرز کی کارروائی کی مکمل تفصیلات کے لیے گوہر بٹ کا وی لاگ یہاں دیکھیں:

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button