ٹرمپ انتظامیہ کے دعوؤں کے برعکس ایران کی عسکری قوت کا بڑاحصہ اب بھی برقرار ہے: امریکی میڈیا

واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ آپریشن ایپک فیوری میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کافی حد تک تباہ  کردیا گیا ہے  تاہم امریکی میڈیا کے مطابق ایران کی خاطر خواہ عسکری صلاحیتیں تاحال برقرار ہیں۔

اس حوالے سے انٹیلیجنس معلومات رکھنے والے متعدد امریکی حکام کے مطابق ایران کے پاس وہ فوجی صلاحیتیں اب بھی موجود ہیں جن کا وائٹ ہاؤس یا پینٹاگون نے عوامی طور پر اعتراف نہیں کیا۔

تین امریکی حکام نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اپریل کے آغاز میں جنگ بندی کے وقت ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے اور ان سے منسلک لانچ سسٹمز کا تقریباً نصف حصہ اب بھی محفوظ تھا۔

حکام کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا تقریباً 60 فیصد حصہ اب بھی موجود ہے جس میں تیز رفتار حملہ آور کشتیاں بھی شامل ہیں۔

حکام نے کہا کہ ایران کی فضائی قوت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے لیکن وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور ایران کی فضائیہ کا تقریباً دو تہائی حصہ اب بھی فعال ہے۔

ایک امریکی عہدیدارکے مطابق جنگی نقصانات کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ میں ایران کی روایتی بحریہ کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا ہے تاہم حکام کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ، جو غیر روایتی جنگ کے لیے تیار کی گئی ہے اور چھوٹے جہازوں پر مشتمل ہے، جزوی طور پر اب بھی برقرار ہے، اور یہی بحریہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ آپریشن ایپک فیوری میں ایران کی فوجی صلاحیت کو تقریباً مکمل طور پر تباہ کرنے دعویٰ کرچکے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button