تھرپارکر:پولیس کی زیادتیوں کیخلاف شہریوں کا احتجاجی دھرنا، اعلیٰ حکام کی ذمہ داروں کیخلاف قانونی کارروائی کی یقین دہانی

تھرپارکر (میندھرو کاجھروی) ضلع تھرپارکر کی تحصیل کھلوئی کی پولیس پر جانبداری اور علاقے کے شریف لوگوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے کے خلاف گزشتہ روز کامریڈ محمد خان لنڈ کی قیادت میں تھرکول روڈ بلوچ آباد چوک پر احتجاجی مظاہرہ کرکے دھرنا دیا گیا۔
مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا کر احتجاج کرتے رہے اور کھلوئی پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ کلوئی پولیس بااثر افراد کی کارندہ بنی ہوئی ہے اور روزانہ جھوٹے مقدمات درج کرکے شہریوں کو ہراساں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر سوبھو خان لنڈ سمیت 9 گھر والوں کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس کی تحقیقات کراکے انصاف فراہم کیا جائے۔
مظاہرین نے بلوچ چوک روڈ پر مارچ کرنے کے بعد دھرنا دیا، جبکہ علاقے کے سینکڑوں افراد بھی احتجاج میں شریک ہوگئے۔
انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کلوئی تھانے کی حدود میں منشیات سرعام فروخت ہو رہی ہے، پولیس وہاں کارروائی کے لیے تیار نہیں، لیکن اگر کوئی منشیات کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو اس کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کر دیے جاتے ہیں۔
روڈ بلاک ہونے کے باعث کئی گاڑیاں رک گئیں اور تقریباً آدھے گھنٹے بعد ایس ایچ او ڈیپلو اور ایس ایچ او کلوئی موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کیے۔
مظاہرین کا واضح مطالبہ تھا کہ شام تک کلوئی تھانے کے بڑے منشی اور مبینہ طور پر تھانہ چلانے والے ایک پولیس اہلکار کو ہٹایا جائے، بصورت دیگر دو دن بعد ہزاروں افراد کے ساتھ دوبارہ بڑا دھرنا دیا جائے گا۔
صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ایس ایس پی تھرپارکر نے فوری طور پر انکوائری ٹیم تشکیل دے دی، جس میں ڈی ایس پی مٹھی ماجد قائم خانی، ایس ایچ او ڈیپلو غلام رسول جنجھ اور ایس ایچ او کلوئی سراج ساند شامل ہیں۔
پولیس حکام کی جانب سے میرٹ پر تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے دھرنا ختم کر دیا۔



