مجتبیٰ خامنہ ای بھی شہید ہو گئے؟

تہران (جانوڈاٹ پی کے)تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران پر ہونے والے ایک شدید حملے کے دوران جب تہران کے مرکزی کمپاؤنڈ پر 40 میزائل داغے گئے، تو اس کارروائی میں مجتبیٰ خامنہ ای شدید زخمی ہو گئے، جس کے بعد سے ان کی پراسرار خاموشی اور منظرِ عام سے دوری نے ان کی شہادت یا زندگی و موت کے درمیان کشمکش کی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ دلچسپ اور حیران کن امر یہ ہے کہ ایرانی آئین کی شق 110 کے تحت مسلح افواج پر کمانڈ کا واحد اختیار رہبرِ اعلیٰ کے پاس ہے، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے کسی بھی نئے حکم کے نہ آنے کے باوجود، ایرانی دفاعی مشینری رکی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے 2007 میں ایک ایسی سٹریٹجک ڈاکٹرائن تیار کی تھی جس کے تحت ملک کو 31 خود مختار صوبائی کمانڈز میں تقسیم کر دیا گیا تھا، اور اب رہبرِ اعلیٰ کی غیر موجودگی میں یہی خودکار سسٹم جنگ کو آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ صورتحال امریکا اور اسرائیل کے لیے ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں، کیونکہ دشمن اب یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وہ کس سے لڑ رہے ہیں، کیونکہ ایران کا یہ خودکار دفاعی نیٹ ورک مرکزی کمانڈ سے آزاد ہو کر اپنے اپنے طے شدہ اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ ایران کا یہ نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ اگر مرکزی قیادت ختم بھی ہو جائے، تب بھی یہ دفاعی جنگ اپنی انتہا تک پہنچ کر رہے گی، جس نے امریکی اور اسرائیلی عسکری منصوبہ سازوں کو شدید بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔
اس سنسنی خیز صورتحال اور ایران کی اس خودکار جنگی حکمتِ عملی کی مکمل تفصیلات سینئر تجزیہ نگار معظم فخر نے اپنی ویڈیو میں بیان کی ہیں، جس کا لنک درج ذیل ہے




