کابل میں بھارتی سفارت خانہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن گیا

کابل/اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) افغانستان کے دارالحکومت کابل پر راکٹوں کی برسات نے طالبان حکومت کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیا ہے، جس کی ذمہ داری ایک نئی اور خطرناک طالبان مخالف تنظیم ‘حبِ استقلال’ نے قبول کر لی ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ افغانستان ایک بار پھر ہولناک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آنے والا ہے۔
دوسری جانب سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں پاکستان نے بھارت کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے، جہاں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے ثبوتوں کے ساتھ بتایا کہ بھارت کس طرح افغان سرزمین کو ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے اہم دہشت گردوں نے کابل کے انتہائی محفوظ ‘گرین زون’ میں پناہ لے رکھی ہے، جہاں ممکنہ طور پر انڈین سفارت خانہ انہیں سفارتی تحفظ فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ پاکستانی کارروائیوں سے بچ سکیں۔ اس کے ساتھ ہی سابق افغان کمانڈر رشید دوستم کی دوبارہ میدان میں واپسی اور طالبان مخالف گروہوں کے ساتھ مل کر کابل پر قبضے کی منصوبہ بندی نے صورتحال کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔
مزید تہلکہ خیز تفصیلات اس ویڈیو لنک پر ملاحظہ فرمائیں:




