افغانستان کا پہلا بڑا میزائل حملہ؟ فیلڈ مارشل کا ہنگامی دورہ!

اسلام آباد/کابل (جانوڈاٹ پی کے) پاک افغان سرحد پر کشیدگی انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان ایئر فورس نے کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے ٹھکانوں اور ملٹری انفراسٹرکچر پر اب تک کی سب سے بڑی فضائی کارروائی کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ایک حملہ افغان سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا، تاہم وہ حملے سے کچھ دیر قبل ہی وہاں سے روانہ ہو چکے تھے۔
سرحدی صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب افغانستان کی جانب سے میران شاہ کنٹونمنٹ پر ایک طاقتور میزائل/راکٹ فائر کیا گیا، جس کے نتیجے میں 2 افراد شہید اور 8 زخمی ہو گئے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے کیونکہ اس سے قبل طالبان کے پاس ایسے جدید میزائلوں کی موجودگی کی اطلاعات نہیں تھیں۔ اس حملے کے فوری بعد چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وانا اور جنوبی وزیرستان کے اگلے مورچوں کا ہنگامی دورہ کیا اور واضح کیا کہ افغان طالبان جب تک دہشت گردوں کی سرپرستی نہیں چھوڑتے، پائیدار امن ممکن نہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، اب تک کی کارروائیوں میں افغان طالبان کے 481 کارندے ہلاک، 226 چیک پوسٹیں تباہ اور 35 پر پاکستان نے قبضہ کر لیا ہے۔ پاکستانی ٹینکوں کی بڑی کھیپ طورخم اور لنڈی کوتل کی جانب روانہ کر دی گئی ہے، جبکہ پاکستانی فورسز افغانستان کے اندر خوست کے علاقے میں 12 کلومیٹر تک داخل ہو کر اسٹریٹجک پوسٹوں پر اپنا جھنڈا لہرا چکی ہیں۔ روس، چین اور ترکی نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے، تاہم پاکستان نے دوٹوک موقف اپنایا ہے کہ جب تک دہشت گردوں کا صفایا نہیں ہوتا، کارروائی نہیں رکے گی۔
مزید تفصیلات کے لیے دیکھئے سینئر صحافی معظم فخر کا مکمل وی لاگ:




