تل ابیب میں قیامت:ایران بچے گا یا اسرائیل؟ اگلے 7دن میں فیصلہ!

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ نے انتہائی ہولناک رخ اختیار کر لیا

​تہران/واشنگٹن(جانوڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں جنگ نے انتہائی ہولناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی موجودہ اور مستقبل کی تمام قیادت کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکی دے دی ہے، جبکہ تہران پر امریکی اور اسرائیلی فضائیہ نے کارپٹ بمباری کر کے تباہی مچا دی ہے۔ حملوں میں ایران کی پارلیمنٹ، وزارتِ دفاع کا دفتر اور چار بڑی میزائل سائٹس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ امریکی سینٹ کام (CENTCOM) کے مطابق ایران پر اب تک 2000 سے زائد حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں بی-52 (B-52) جیسے سٹریٹجک بمبار طیارے بھی شامل ہیں جو ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

​ایران نے ان حملوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے اسرائیل کے شہروں تل ابیب اور حیفہ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، جس سے وسیع پیمانے پر نقصان کی اطلاعات ہیں۔ سنسنی خیز انکشاف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ایران نے ریاض (سعودی عرب) اور دبئی میں امریکی سفارت خانوں کے ان حصوں پر ڈرون حملے کیے ہیں جہاں سی آئی اے (CIA) کے خفیہ مراکز قائم تھے۔ قطر میں بھی ایرانی حملے سے امریکہ کا انتہائی حساس رڈار سسٹم تباہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

​دفاعی ماہرین کے مطابق اگلے 7 دن مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔ اگر ایران اپنی میزائل قوت کو بچانے میں کامیاب رہا تو وہ اسرائیل کے لیے ‘قیامت’ ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ہونے والے اسمبلی آف ایکسپرٹس کے اجلاس کی عمارت کو بھی بمباری سے مسمار کر دیا گیا ہے، تاہم خبریں ہیں کہ یہ اجلاس آن لائن منعقد کر کے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا گیا ہے۔ اس جنگی صورتحال کی مکمل تفصیلات کے لیے معروف تجزیہ کار معظم فخر کا یہ خصوصی وی لاگ دیکھئے

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button