تھرپارکرایمبولینس سانحہ: ایم پی اے سریندر ولاسائی کے پی پی ایچ آئی سندھ سے 11 اہم سوالات

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) نگرپارکر میں پیش آنے والے المناک ایمبولینس سانحے کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی نے پی پی ایچ آئی سندھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو خط لکھ دیا۔ خط میں سریندر ولاسائی نے آکسیجن سلنڈر کی خریداری، بھرائی، سپلائی، فنی معائنے، حفاظتی انتظامات اور متعلقہ افسران و ٹھیکیداروں کی ذمہ داریوں سے متعلق 11 اہم سوالات اٹھاتے ہوئے واقعے کی آزادانہ اور تکنیکی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ سریندر ولاسائی نے استفسار کیا کہ آکسیجن سلنڈر بھرنے کا ٹھیکہ دینے سے قبل کیا پی پی ایچ آئی کے کسی فنی افسر نے ٹھیکیدار کے مقام کا معائنہ کیا تھا؟ اگر معائنہ کیا گیا تو اس کی رپورٹ، تاریخ، متعلقہ افسر کا نام اور سفارشات کیوں سامنے نہیں لائی گئیں؟ انہوں نے ٹھیکیدار کے لائسنس، فنی اہلیت، سلنڈر بھرنے کے آلات، ٹیسٹنگ سہولیات، آگ سے بچاؤ کے انتظامات اور طبی آکسیجن سے متعلق حفاظتی ضوابط کی تصدیق کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے۔ خط میں مبینہ طور پر اسی مقام پر ایل پی جی سلنڈروں کی موجودگی، وہاں اسٹوریج اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے، جبکہ حادثے میں استعمال ہونے والے سلنڈر کے سیریل نمبر، خریداری، بھرائی، ترسیل اور ٹیسٹنگ ریکارڈ کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سریندر ولاسائی نے زور دیا کہ سلنڈر، والو، ریگولیٹر اور دیگر متعلقہ آلات کو محفوظ کرکے آزاد فنی و فارنزک تحقیقات کرائی جائیں، جبکہ مستند لیبارٹری سے گیس کے مواد کی جانچ بھی کی جائے تاکہ دھماکے کی اصل وجہ، ممکنہ لیکیج، اضافی دباؤ، گیس کی آلودگی یا مشینی خرابی کا تعین ہوسکے۔ انہوں نے ایمبولینس میں نصب آکسیجن سسٹم، سلنڈر اور ریگولیٹر کی باقاعدہ دیکھ بھال، متعلقہ عملے کی تربیت، ٹھیکیدار کی نگرانی اور ماضی میں سامنے آنے والی کسی شکایت یا حفاظتی خلاف ورزی کی صورت میں کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ خط میں خریداری اور مالی ریکارڈ، ٹینڈر دستاویزات، معاہدوں، خریداری کے آرڈرز، انوائسز، ادائیگیوں، سلنڈر بھرائی رجسٹر اور اسٹاک ریکارڈ کی جانچ کے ذریعے حادثے میں استعمال ہونے والے سلنڈر کی مکمل سپلائی چین کی تصدیق کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔سریندر ولاسائی نے مطالبہ کیا کہ تمام متعلقہ دستاویزات اور شواہد فوری طور پر محفوظ کیے جائیں اور اسی سپلائر سے فراہم کیے گئے دیگر سلنڈروں کی بھی حفاظتی جانچ کرائی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات میں غفلت، فنی نگرانی میں کمی، خریداری کے ضوابط کی خلاف ورزی یا حفاظتی انتظامات میں ناکامی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف قانون اور ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔ سریندر ولاسائی نے پی پی ایچ آئی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ سانحے کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد فنی ٹیم تشکیل دی جائے اور متعلقہ ریگولیٹری و فارنزک اداروں سے تعاون حاصل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات کے دوران الزامات اور تصدیق شدہ حقائق میں فرق رکھا جائے اور سائنسی و فنی شواہد کی بنیاد پر حادثے کی اصل وجہ کا تعین کیا جائے۔انہوں نے پی پی ایچ آئی سندھ سے تحقیقات کے نتائج، ذمہ داروں کے تعین اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات پر مشتمل تحریری رپورٹ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ خط کی نقول چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری صحت سندھ اور ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی مٹھی کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔



