ایران کے خلاف جنگ نے امریکا کو غیر محفوظ بنا دیا، اوباما کی ٹرمپ پالیسی پر کڑی تنقید

واشنگٹن (ویب ڈیسک) سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے اور سفارت کاری کے ذریعے اس کے جوہری پروگرام کو محدود کیا جا سکتا تھا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق باراک اوباما نے ایران کے ساتھ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے تہران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں میزائل حملوں کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کیا تھا۔
سابق امریکی صدر نے ایران کے خلاف جنگ کے نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کے باعث امریکا کے اتحادیوں اور فوجی اڈوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ متعدد امریکی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔
باراک اوباما کے مطابق جنگ کے دوران امریکا کے میزائلوں کے ذخائر میں بھی کمی آئی ہے، جس کے باعث ملک پہلے کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہو گیا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز پر ایران کا اثرورسوخ بڑھ گیا ہے اور اسے اس اہم بحری گزرگاہ کے معاملات میں ویٹو جیسی طاقت حاصل ہو گئی ہے۔
اوباما نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ قرار دیا۔ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں کشیدگی نہ صرف توانائی کی عالمی منڈیوں بلکہ متعدد ممالک کی معیشتوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔



