نیتن یاہو کا سیاسی معمہ: جیت بھی شکست، ہار بھی فتح!

کالم نگار: بکر عویضہ(عربی سے ترجمہ)
(بکر عویضہ فلسطینی صحافی اور کالم نگار ہیں۔ انہوں نے 1968ء میں لیبیا سے صحافتی سفر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں برطانیہ میں عرب صحافت کے فروغ کے ساتھ وابستہ ہوئے اور مختلف عرب میڈیا اداروں میں خدمات انجام دیں۔ وہ بین الاقوامی سطح پر عرب صحافت سے وابستہ رہے ہیں اور آن لائن عرب میڈیا کے ایک ادارے میں مشیر کی حیثیت سے بھی کام کر چکے ہیں۔)
اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے نتائج خواہ کچھ بھی ہوں، بنیامین نیتن یاہو کے لیے ان کا مطلب یہی ہوگا کہ وہ جیت کر بھی ہارنے والے ہیں اور ہار کر بھی جیتنے والے۔ یہ کیسا معاملہ ہے؟ کیا یہ کوئی معما ہے یا پھر جادو ٹونے اور شعبدہ بازی کرنے والوں کی اصطلاح میں ’’فال نکالنے‘‘ جیسی کوئی بات؟
نہیں، یہ کوئی معما نہیں۔ البتہ سیاسی چالبازیوں اور جھوٹ کے کھیل میں نیتن یاہو نے اسرائیل کے قیام سے لے کر اب تک کے تمام سیاست دانوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، خواہ وہ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں یا آج بھی سیاست میں سرگرم ہوں۔ یہاں تک کہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ وہ اس معاملے میں خود اپنے آپ سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔ ممکن ہے، کبھی کبھار انہیں خود بھی حیرت ہوتی ہو کہ انہوں نے کوئی جھوٹ کیسے گھڑا اور پھر خود ہی اس پر یقین بھی کر لیا۔
اب اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ نیتن یاہو، جنہیں ’’بی بی‘‘ بھی کہا جاتا ہے، انتخابات میں ہار کر بھی کیسے کامیاب رہیں گے اور جیت کر بھی کیوں ناکام سمجھے جائیں گے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ معاملہ صرف نیتن یاہو کی ذات تک محدود نہیں، بلکہ اسرائیلی سیاست میں ہٹ دھرمی کے ایک پورے طرزِ فکر اور مذہبی انتہا پسندی کے ان عقائد سے تعلق رکھتا ہے جو بالخصوص ان یہودیوں میں پائے جاتے ہیں جنہیں عالمی ذرائع ابلاغ میں ’’الٹرا آرتھوڈوکس‘‘ کہا جاتا ہے۔ عبرانی اصطلاح میں ان میں نمایاں گروہ ’’حریدیم‘‘ کہلاتا ہے۔
ظاہر ہے کہ 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے عسکری ونگ، کتائب القسام کے حملے، جسے ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ کا نام دیا گیا، ان انتخابات کا سب سے اہم موضوع ہیں۔ یہ اسرائیل میں اس حملے کے بعد ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں، جن کے باضابطہ نتائج سامنے آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
اس تناظر میں نیتن یاہو، جو لیکوڈ جماعت کے سربراہ ہیں، موجودہ حکومت میں ان کے اتحادی مذہبی انتہا پسند رہنماؤں، بالخصوص ایتامار بن گویر اور بتسلئیل سموترچ کے ساتھ، خود کو اس قوت کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو حماس اور اس کے عسکری ونگ کے مکمل خاتمے کی کارروائی کو انجام تک پہنچا سکتی ہے۔
بات صرف یہیں تک محدود نہیں۔ نیتن یاہو اور ان کے ساتھی دو مزید اہداف کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں۔ پہلا یہ کہ دو ریاستی حل کے منصوبے کو ہمیشہ کے لیے ناکام بنا دیا جائے، اور دوسرا یہ کہ غزہ میں اب تک باقی رہ جانے والے فلسطینیوں کی اکثریت کو ہر ممکن طریقے سے علاقے سے باہر دھکیل دیا جائے۔
دوسری طرف نیتن یاہو کے نمایاں ترین حریف اور اسرائیلی فوج کے سابق سربراہِ جنرل اسٹاف، گادی آئزن کوٹ، بھی حماس کے خاتمے اور غزہ کے باشندوں کی جبری بے دخلی کے معاملے میں کسی طور کم سخت مؤقف نہیں رکھتے۔
یہ تمام صورتِ حال ایک واضح نتیجے کی طرف لے جاتی ہے: اسرائیل میں رائج وہ سیاسی سوچ، جو فلسطینی مسئلے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک ’’حتمی حل‘‘ مسلط کرنا چاہتی ہے، دو بنیادی راستوں پر چل رہی ہے۔ پہلا، دو ریاستی حل کے امکان کو ختم کرنا؛ اور دوسرا، غزہ کے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی۔
اس کے ساتھ مغربی کنارے کے فلسطینیوں پر منظم انداز میں دباؤ بڑھانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ وہاں آبادکاروں کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملوں سے چشم پوشی کی جاتی ہے، تاکہ فلسطینیوں کو بھی اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکے۔ یہ سب اس ’’ٹرانسفر‘‘ کے نظریے کی تکمیل کی کوشش ہے جو صہیونی انتہا پسند قوتوں کے سیاسی پروگراموں اور ایجنڈوں کا حصہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کے انتخابی دنگل میں سب سے بڑا فاتح یہی طرزِ فکر ہے، قطع نظر اس کے کہ نیتن یاہو کامیاب ہوتے ہیں یا ناکام۔
ٹھیک ہے، میں پہلے ہی جانتا ہوں کہ فلسطینی دھڑوں کی اس سوچ اور حکمتِ عملی کو بھی اس صورتِ حال کی ذمہ داری میں شریک قرار دینا، جس نے بالآخر ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ جیسے حملے کو جنم دیا، حماس یا اس کے حامیوں کو قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
لیکن ایسا ہی سہی۔ غالب امکان ہے کہ ایک وقت آئے گا جب کچھ تلخ حقائق پوری طرح واضح ہو جائیں گے۔ تاہم اس وقت ان حقائق کی سب سے بھاری قیمت آج کے فلسطینی بچے اور مستقبل قریب کے نوجوان ادا کر رہے ہوں گے، خواہ وہ وقت ابھی کتنا ہی دور کیوں نہ دکھائی دیتا ہو۔



