جعلی چیک کیس میں پولیس کی غلط رپورٹ پر چیف جسٹس عالیہ نیلم برہم، سی پی او ملتان سے جواب طلب

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے 20 لاکھ روپے کے جعلی چیک کے مقدمے میں پولیس کی ناقص کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سی پی او ملتان سے ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے شہری شہباز نور کی جانب سے مقدمے کے اخراج کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔ عدالتی حکم پر سی پی او ملتان بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت چیف جسٹس نے سی پی او ملتان سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے مقدمے کا جائزہ لیا ہے اور وہ اپنے محکمے کی کارکردگی کے بارے میں کیا کہیں گے؟ عدالت نے نشاندہی کی کہ پولیس رپورٹ میں ملزم کو اشتہاری قرار دیا گیا، حالانکہ مدعی کے ساتھ راضی نامے کے بعد ملزم کی ضمانت بھی کنفرم ہوچکی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کی جانب سے غلط رپورٹ جمع کرانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اہلکار فائل دیکھے بغیر عدالت میں رپورٹ کیسے پیش کردیتے ہیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ شوکاز نوٹس جاری کرنے کی کارروائی محض دکھاوا نہیں ہونی چاہیے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شوکاز نوٹس آنکھوں کا دھوکہ ہے، عدالت کسی دھوکے میں نہیں آئے گی۔ ایک ماہ بعد شوکاز نوٹس اور معطلی کے احکامات واپس لے لیے جاتے ہیں، اس لیے محض ایسی کارروائیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے پولیس کی کارکردگی پر مزید سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا پولیس صرف انہی مقدمات میں کارروائی کرتی ہے جن میں عدالت اسے طلب کرتی ہے؟ یہ 2018ء کا مقدمہ ہے، مدعی رقم لے کر پاکستان سے جا چکا ہے، لیکن ملزم اب بھی مقدمے میں پھنسا ہوا ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مقدمات کے غیر ضروری التوا اور پولیس کی جانب سے دوبارہ چالان جمع کرانے کے عمل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں 2021ء کے مقدمات نمٹائے جاچکے ہیں، لیکن پولیس دوبارہ چالان جمع کراتی ہے تو پرانے مقدمات ایک بار پھر عدالتی نظام میں آجاتے ہیں۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ پولیس افسران کو اختیارات کے استعمال کے بجائے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ کام میں وعدوں سے زیادہ عملی اقدامات کی اہمیت ہوتی ہے۔
اس موقع پر سی پی او ملتان نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوگی۔ عدالت نے مقدمے میں پیش رفت سے متعلق ایک ماہ کے اندر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
واضح رہے کہ شہری شہباز نور کے خلاف 20 لاکھ روپے کے جعلی چیک کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کے اخراج کے لیے انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔



