بنوں امن کمیٹی کے خلاف درخواست، پشاور ہائیکورٹ کا آر پی او کو پیش ہونے کا حکم

پشاور(جانوڈاٹ پی کے) پشاور ہائیکورٹ نے بنوں امن کمیٹی کے خلاف دائر درخواست پر آئندہ سماعت کے دوران آر پی او بنوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دے دیا، جبکہ واقعے سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی۔
چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے درخواست پر سماعت کی، جس کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 15 سالہ رحیم اللہ اور اس کے بڑے بھائی شمال خان کو بنوں امن کمیٹی نے اٹھایا تھا۔ وکیل کے مطابق رحیم اللہ کو دو روز قبل رہا کردیا گیا، تاہم شمال خان تاحال لاپتا ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے سوال اٹھایا کہ کم عمر بچے کے خلاف کیا الزامات ہیں اور وہ دہشت گردی میں کیسے ملوث ہوسکتا ہے؟ عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ بنوں امن کمیٹی کس نے قائم کی اور اسے اختیارات کس نے دیے ہیں۔
اس موقع پر ایس پی رورل بنوں شکیل خان نے عدالت کو بتایا کہ بنوں میں حالات خراب ہیں اور پولیس نے خود امن کمیٹی قائم کی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ علاقے میں آپریشن جاری ہے، اس لیے مزید وقت دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شمال خان پولیس کی تحویل میں نہیں ہے۔
عدالت نے آر پی او بنوں کو آئندہ سماعت پر ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے متعلقہ رپورٹ طلب کرلی اور کیس کی سماعت 16 نومبر تک ملتوی کردی۔



