صحت کارڈ پلس میں 9 ارب روپے کی وصولی کی تجویز زیرِ غور رہی، دستاویزات میں اہم انکشافات

پشاور(جانوڈاٹ پی کے) خیبرپختونخوا میں صحت کارڈ پلس کے اخراجات کم کرنے کے لیے مریضوں کی سہولتیں محدود کرنے اور شہریوں سے اضافی رقم وصول کرنے کی مختلف تجاویز سامنے آگئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ تبدیلیوں کے تحت شہریوں پر مجموعی طور پر 9 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی تجویز زیرِ غور رہی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت 10 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں صحت کارڈ پلس کے اخراجات میں کمی کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں، جن میں نجی ہسپتالوں میں منتخب علاج کے علاوہ مریضوں سے 20 فیصد اخراجات وصول کرنے کی تجویز بھی شامل تھی۔
مجوزہ پالیسی کے تحت مہنگے اور غیر ہنگامی علاج کو صرف سرکاری ہسپتالوں تک محدود کرنے، صحت کارڈ پلس سے بعض طبی سہولتیں خارج کرنے اور سرکاری ہسپتالوں کو ادائیگیوں پر 10 سے 15 فیصد نظرثانی کی تجاویز بھی زیرِ غور آئیں۔
اخراجات میں کمی کے لیے بچت کے تخمینے
دستاویزات کے مطابق مہنگے اور غیر ہنگامی علاج کو محدود کرنے سے 1.7 ارب روپے، جبکہ کم پیچیدگی والے علاج کو پروگرام سے خارج کرنے سے 37 کروڑ 90 لاکھ روپے کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا۔
مجوزہ تبدیلیوں کے نتیجے میں نجی ہسپتالوں میں علاج کی سہولتوں تک مریضوں کی رسائی اور کم آمدنی والے خاندانوں پر ممکنہ مالی بوجھ سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے۔
مجوزہ تبدیلیاں نافذ کیوں نہ ہوئیں؟
رپورٹ کے مطابق شہریوں سے اضافی رقم وصول کرنے سے متعلق مجوزہ تبدیلیوں کے لیے وزیراعلیٰ یا کابینہ کی باقاعدہ منظوری درکار تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں میں مصروفیت کے باعث سہیل آفریدی مجوزہ سمری پر دستخط نہ کرسکے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 11 اکتوبر کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ مجوزہ تبدیلیاں نافذ نہ ہوسکیں۔
صحت کارڈ پلس میں مجوزہ کٹوتیوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد پروگرام کے اخراجات میں کمی، مریضوں کے مالی تحفظ اور علاج کی سہولتوں سے متعلق بحث نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ تاہم، یہ تجاویز تھیں اور فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ان پر عمل درآمد نہیں ہوا تھا۔



