غزہ میں اسرائیلی جنگ کی تباہ کاریاں، 38 ہزار سے زائد فلسطینی خواتین اور بچیاں شہید

غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں فلسطینی خواتین اور بچیوں کی ہلاکتوں، معذوری اور بے گھری سے متعلق دل دہلا دینے والے اعدادوشمار سامنے آگئے۔ غزہ کی وزارت امورِ خواتین کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک 38 ہزار سے زائد فلسطینی خواتین اور بچیاں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں، جبکہ ہزاروں دیگر شدید زخمی ہو کر مستقل معذوری کا شکار ہو چکی ہیں۔
وزارت امورِ خواتین کے مطابق 11 ہزار 700 خواتین اور بچیاں ایسی شدید چوٹوں کا شکار ہوئیں جن کے باعث وہ مستقل معذوری سے دوچار ہو گئیں۔ مجموعی طور پر 50 ہزار خواتین اور بچیاں جنگ کی تباہ کاریوں سے متاثر ہوئی ہیں۔
فلسطینی خواتین کے قومی دن کے موقع پر جاری بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں ایک لاکھ سے زائد خواتین بے گھر ہو چکی ہیں، جبکہ ہزاروں فلسطینی خواتین اپنے شوہروں سے محروم ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
بیان میں جنگ کے دوران خواتین اور بچیوں کو درپیش انسانی بحران کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا کہ مسلسل تباہی، بے گھری اور جانی نقصان نے فلسطینی خاندانوں کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2025ء میں جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود اسرائیلی حملے جاری رہے۔ وزارت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جنگ بندی کے بعد ہونے والے حملوں میں کم از کم ایک ہزار 551 فلسطینی شہید اور 5 ہزار 573 زخمی ہو چکے ہیں۔
غزہ میں جاری انسانی بحران کے باعث خواتین، بچوں اور دیگر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ جانی نقصان اور تباہی نے جنگ کے انسانی اثرات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔



