فاٹا کی سابقہ آئینی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ، قبائلی جرگے کا 25ویں ترمیم کی مخالفت کااعلان

قبائلی عمائدین نے فاٹا کی نئی کونسل کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ موجودہ انتظامی نظام میں ایف آر کوہاٹ اور ایف آر پشاور کو فوری طور پر شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے بعد کی گئی انتظامی تبدیلیاں قبول نہیں اور قبائلی روایات، قوانین اور خودمختاری کو تسلیم کیا جائے۔
جرگے کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قبائلی عمائدین کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور قبائلی امور سے متعلق تمام فیصلے متعلقہ قبائل کی مشاورت سے کیے جائیں۔
ملک شیر محمد خان نے کہا کہ قبائلی شناخت اور خودمختاری کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔ مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست زیرِ سماعت ہے۔
فاٹا سپریم کونسل نے بھی واضح کیا کہ قبائلی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور قبائلی علاقوں کے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں تمام قبائل کی مشاورت کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔



