پاکستان،ترکیہ،سعودی عرب اور ایران کاتعاون مضبوط بنانے کیلئے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ علاقائی سلامتی کے طریقہ کار پر مشاورت اور تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔ خطے میں سلامتی کے قیام کے لیے علاقائی ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون ناگزیر ہے، جبکہ پائیدار امن کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اجلاس میں خطے کی سلامتی، امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے اثرات اور فلسطین و لبنان کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سعودی عرب کی نمائندگی کررہے ہیں،
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ مشترکہ اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے دوران پیش کی گئی تھی، جس کا ایران نے خیرمقدم کیا۔ ایران نے تینوں ممالک کے وفود کے دورۂ تہران کو علاقائی سلامتی کے نظام میں تعاون بڑھانے کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق مکہ معاہدے میں شریک ممالک اور ایرانی قیادت کی ملاقات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ان ممالک کی جانب سے بحران کے سفارتی حل اور ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی جا رہی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اسلامی ممالک کے اتحاد اور باہمی مفاہمت کا باعث بننے والی ہر کوشش کی حمایت کرتا ہے۔
چار ملکی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ مسلم ممالک اپنی مشترکہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دنیا کے سامنے انصاف اور ترقی کا نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔ اسلامی ممالک کا اتحاد اسرائیل کو جارحیت جاری رکھنے سے روک سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل کا خیال تھا کہ فوجی جارحیت ایران کو جھکنے پر مجبور کر دے گی، تاہم دباؤ اور فوجی کارروائیوں نے ایرانی قوم کے اتحاد کو مزید مضبوط کیا ہے۔
مسعود پزشکیان کے مطابق خطے نے حالیہ برسوں میں اسرائیلی جرائم کی وسیع لہر دیکھی ہے۔ نقصانات اور مشکلات کے باوجود ایرانی قوم اپنے وطن کے دفاع پر ڈٹی رہی۔انہوں نے کہا کہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کا تصور غلط ہے



