روس اور یوکرین میں الیوشکی کے لیے مقامی جنگ بندی پر اتفاق، شہریوں کے انخلا اور امداد کی راہ ہموار

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روس اور یوکرین نے خیرسون ریجن کے شہر الیوشکی میں انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کے محفوظ انخلا کو ممکن بنانے کے لیے مقامی سطح پر جنگ بندی کے انتظامات پر اتفاق کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے آغاز کی تاریخوں سے متعلق مختلف اعلانات سامنے آئے ہیں۔
روسی انسانی حقوق کی کمشنر یانا لانتراٹووا نے بتایا کہ دونوں ممالک طے شدہ معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم میکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ یوکرین کے انسانی حقوق کے کمشنر دمتری لوبینیتس کے ساتھ الیوشکی میں مجوزہ انسانی مشن کے انتظامات پر بات چیت ہوئی ہے۔
یانا لانتراٹووا کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہونے والی کارروائیوں سے متعلق معاملات پہلے سے طے شدہ انتظامات کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور دونوں فریق اپنے وعدوں کی پاسداری کر رہے ہیں۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے جمعے کے روز اعلان کیا تھا کہ روس اور یوکرین الیوشکی کے ایک محدود علاقے میں جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد متاثرہ شہریوں تک خوراک، ادویات اور دیگر ضروری امدادی سامان پہنچانا اور ان کے محفوظ انخلا کے لیے راستہ فراہم کرنا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے مطابق مقامی جنگ بندی 29 اکتوبر سے نافذ ہوگی، جس کے دوران دونوں ممالک الیوشکی میں فوجی کارروائیاں روکیں گے۔ وائٹ ہاؤس نے مزید بتایا کہ ایک آزاد امریکی میڈیا ادارہ انسانی مشن میں معاونت کرے گا اور دونوں جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو دستاویزی شکل دے گا۔
دوسری جانب روسی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل والیری گیراسیموف نے اعلان کیا ہے کہ خیرسون کے محاذ پر الیوشکی کے قریب انسانی ہمدردی کی کارروائی کے لیے 27 اکتوبر کو ماسکو کے وقت کے مطابق صبح 4 بجے سے مقامی جنگ بندی نافذ کی جائے گی۔
روسی اور امریکی اعلانات میں جنگ بندی کے آغاز کی تاریخوں میں فرق کے باوجود دونوں جانب سے اس کا بنیادی مقصد انسانی امداد کی فراہمی اور شہریوں کے محفوظ انخلا کو قرار دیا گیا ہے۔
الیوشکی کی انسانی صورتِ حال اس سے قبل بھی تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ 21 ستمبر کو کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے شہر میں انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ روسی حکام کے مطابق یوکرینی گولہ باری اور ڈرون حملوں کے باعث خوراک اور ادویات کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہوئی تھیں۔
الیوشکی ضلع کے سربراہ روسلان خومینکو نے 19 اکتوبر کو دعویٰ کیا تھا کہ ایک ہفتے کے دوران یوکرینی افواج نے علاقے پر توپ خانے اور ڈرونز کے ذریعے 1,200 سے زائد حملے کیے۔
روسی انسانی حقوق کی کمشنر کے مطابق یوکرینی ہم منصب کے ساتھ انسانی مشن کی تفصیلات پر رابطہ برقرار ہے اور امدادی سرگرمیوں کے لیے طے شدہ انتظامات پر عمل درآمد جاری ہے۔ تاہم جنگ بندی کے عملی نفاذ اور شہریوں کے محفوظ انخلا کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کی جانب سے طے شدہ شرائط پر عمل کرنے پر ہوگا۔



