اوباما نے ٹرمپ کی ایران پالیسی پر سوال اٹھا دیے، جنگ کو غیر ضروری قرار دے دیا

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق امریکی صدر بارک اوباما نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو جنگ کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا، حالانکہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے۔

بارک اوباما نے امریکی ریاست اوہائیو میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ امریکی صدر نے متعدد غلط فیصلے کیے، جن میں سب سے اہم ایک غیر ضروری جنگ شروع کرنے کا فیصلہ تھا۔

سابق امریکی صدر نے کہا کہ ٹرمپ نے ایسی جنگ شروع کی جس کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کو بدترین نااہل قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف فتح کے اعلان کے سات ماہ بعد بھی امریکی اتحادیوں اور فوجی اڈوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ متعدد امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔

بارک اوباما کے مطابق جنگ کے نتیجے میں امریکا کے میزائلوں کے ذخائر بھی ختم ہو چکے ہیں، جبکہ خطے میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچا ہے۔

سابق صدر نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب ایران کو اس اہم بحری گزرگاہ پر ویٹو پاور حاصل ہو گئی ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایران جنگ کے معاشی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بھی یہی جنگ ہے۔ ان کے بقول جنگ کے اثرات صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہے بلکہ امریکی معیشت اور عام شہریوں کی زندگیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔

اوباما کے اس بیان نے ایران جنگ سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی حکمتِ عملی، جنگی اخراجات اور عالمی توانائی کی منڈی پر اس کے اثرات کے حوالے سے جاری سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button