مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، برینٹ 116 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں اور متحدہ عرب امارات میں تیل کے اخراج کی اطلاع کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت اپریل کے اواخر کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 3.18 ڈالر، یعنی 2.81 فیصد اضافے کے بعد 116.35 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ کاروباری سیشن کے دوران برینٹ کی قیمت 117.45 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ گئی، جو تقریباً چھ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ ڈبلیو ٹی آئی 3.50 ڈالر، یعنی 3.52 فیصد مہنگا ہونے کے بعد 102.97 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد خدشات بڑھ گئے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اسی تناظر میں عالمی منڈی خطے کی سکیورٹی صورتحال اور توانائی کی سپلائی سے متعلق پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے حکام نے سمندر میں تیل کے اخراج کی اطلاع بھی دی ہے، تاہم اس کی مقدار اور عالمی منڈی میں تیل کی رسد پر ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ماہرین کے لیے خطے میں سکیورٹی صورتحال اور تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹیں اہم عوامل ہیں، کیونکہ کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں عالمی توانائی منڈیوں میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔



