میلانیا ٹرمپ کی کوششوں سے روس اور یوکرین کے درمیان اولیشکی میں جنگ بندی کا اعلان، 27 اکتوبر سے آغاز متوقع

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ سے متاثرہ شہر اولیشکی میں جنگ بندی کرانے کے لیے کردار ادا کیا ہے، جس کا آغاز 27 اکتوبر سے ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق جنگ بندی کا مقصد شہر میں انسانی امداد پہنچانا اور وہاں پھنسے تقریباً 2 ہزار شہریوں کو ان کی خواہش کے مطابق روس یا یوکرین منتقل کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ ایک امریکی میڈیا ادارہ بھی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق یوکرینی شہر اولیشکی پر روس نے فروری 2022 میں قبضہ کیا تھا۔ جنگ سے قبل شہر کی آبادی تقریباً 24 ہزار افراد پر مشتمل تھی، تاہم اب وہاں لگ بھگ 2 ہزار شہری باقی رہ گئے ہیں، جنہیں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی سہولتوں کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ شہر میں بجلی، خوراک اور ادویات کی کمی ہے، جبکہ مسلسل حملوں کے باعث شہریوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ جنگ بندی سے متاثرہ آبادی تک انسانی امداد پہنچانے اور شہریوں کے انخلا کی امید پیدا ہوئی ہے۔
تاہم روس اور یوکرین کے درمیان مستقل امن معاہدے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے نومبر کے پہلے نصف میں متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی میں روس کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کے لیے مضبوط سکیورٹی ضمانتیں اور یوکرینی فوج کے لیے 10 سال کی مالی معاونت ضروری ہوگی۔
ادھر یوکرین نے مواصلاتی نظام اسٹار لنک میں رکاوٹوں کی شکایت بھی کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ برقرار رہنے کی صورت میں ایلون مسک سے رابطہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔



