تھر اور عمرکوٹ کے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کا ووٹ: حق، مسئلہ اور نیا راستہ

میندھرو کاجھروی

تھرپارکر اور عمرکوٹ کے ہزاروں خاندانوں کی زندگی گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بڑی تبدیلیوں سے گزری ہے۔ خشک سالی، روزگار کی کمی، موسمیاتی تبدیلی، معاشی مشکلات اور بنیادی سہولیات کی محدود دستیابی کے باعث کئی خاندان اپنے آبائی گاؤں چھوڑ کر مٹھی، ڈپلو، چیلہار، اسلام کوٹ، چھاچھرو، ننگرپارکر، کلوئی اور عمرکوٹ جیسے شہروں کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔

یہ خاندان اب ان شہروں میں صرف چند ماہ کے لیے رہنے والے مسافر نہیں ہیں بلکہ بہت سے خاندان کئی برسوں سے وہاں مستقل زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے بچے انہی شہروں کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، روزگار کے ذرائع وہیں ہیں، گھر وہیں ہیں اور مستقبل کی امیدیں بھی انہی شہروں سے وابستہ ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کا ووٹ کا حق بھی ان کی موجودہ رہائش کے ساتھ منتقل ہوا ہے؟

ووٹ کا حق اور رہائش کا مسئلہ سندھ اسمبلی کے رکن سریندر ولاسائی نے 20 جولائی 2026 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک اہم درخواست بھیجی، جس میں تھرپارکر اور عمرکوٹ میں اندرونی نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لیے ووٹر رجسٹریشن میں رہائش کے ثبوت کی شرط میں سہولت دینے کی اپیل کی گئی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کئی خاندان برسوں سے شہروں میں رہنے کے باوجود موجودہ رہائش کے مقام پر ووٹر کے طور پر رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ شناختی کارڈ پر درج پرانا پتہ اور نئی رہائش کا دستاویزی ثبوت فراہم کرنے میں دشواری ہے۔

عام طور پر رہائش ثابت کرنے کے لیے بجلی کا بل یا ایسا ہی کوئی دوسرا دستاویز درکار ہوتا ہے۔ لیکن تھر کے کئی غریب خاندانوں کے پاس بجلی کا کنکشن ہی نہیں۔ کچھ آبادیاں ایسی جگہوں پر واقع ہیں جہاں گرڈ بجلی کی سہولت موجود نہیں، جبکہ کئی خاندان سولر سسٹم استعمال کرتے ہوئے قومی گرڈ سے بجلی کا کنکشن ختم کرا چکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک خاندان حقیقت میں برسوں سے کسی شہر میں رہ رہا ہے، مگر اس کے پاس اپنی موجودہ رہائش ثابت کرنے کے لیے وہ دستاویز موجود نہیں جس کا انتظامی نظام تقاضا کرتا ہے۔

الیکشن کمیشن کا اہم جواب اب اس مسئلے پر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 20 اکتوبر 2026 کو سریندر ولاسائی کو بھیجے گئے خط میں بتایا گیا ہے کہ ان کی درخواست مناسب کارروائی کے لیے نادرا کو بھیجی گئی تھی۔

نادرا کی جانب سے بتایا گیا کہ تھرپارکر اور عمرکوٹ اضلاع میں یونین کونسلوں کی جانب سے جاری کیے جانے والے "رہائشی سرٹیفکیٹ” (Resident Certificate) کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

اس سرٹیفکیٹ کو قومی شناختی کارڈ پر عارضی رہائش کا پتہ درج کرانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم اسے جاری کرنے والی یونین کونسل سے تصدیق ضروری ہوگی۔ یہ پیش رفت ان خاندانوں کے لیے ایک اہم امید پیدا کرتی ہے جو بجلی کے بل یا دیگر روایتی دستاویزات نہ ہونے کے باعث اپنی موجودہ رہائش ثابت کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

سندھ حکومت کے لیے اہم ذمہ داری الیکشن کمیشن نے اپنے خط میں سریندر ولاسائی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سندھ حکومت سے رابطہ کریں تاکہ متعلقہ بلدیاتی اداروں کو رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے حوالے سے ضروری ہدایات دی جا سکیں۔

اب اصل امتحان سندھ حکومت اور مقامی اداروں کا ہے۔ اگر یونین کونسلیں یہ سرٹیفکیٹ آسان، شفاف اور مقررہ وقت کے اندر جاری کرتی ہیں تو ہزاروں خاندانوں کے لیے شناختی کارڈ پر پتہ تبدیل کرانے اور اس کے بعد ووٹر لسٹ میں رجسٹریشن کا عمل آسان ہو سکتا ہے۔

لیکن اگر اس عمل میں دوبارہ طویل کاغذی کارروائی، سفارش، رشوت یا غیر ضروری دفتروں کے چکر شامل ہوگئے تو ایک اچھا فیصلہ بھی عام آدمی کے لیے بے فائدہ ثابت ہوسکتا ہے۔

کیا ہر نقل مکانی کرنے والا ووٹر ہے؟ یہ بات واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ رہائشی سرٹیفکیٹ کا مطلب ہر شخص کو بغیر تصدیق ووٹر بنانا نہیں ہے۔

ضروری ہے کہ متعلقہ یونین کونسل حقیقی رہائش کی تصدیق کرے۔ جو خاندان واقعی برسوں سے کسی علاقے میں رہائش پذیر ہے، اسے قانونی طریقہ کار کے تحت سرٹیفکیٹ جاری کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ جعلی رہائشی سرٹیفکیٹس کی روک تھام کے لیے بھی سخت نگرانی ضروری ہے۔ شفافیت دونوں جانب سے لازمی ہے: حقیقی رہائشی کو اس کا حق ملے اور غیر مستحق شخص ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔

تھر کی نقل مکانی کو سمجھنا ضروری ہے تھرپارکر کی نقل مکانی کو صرف "گاؤں سے شہر آنے” کے ایک سادہ عمل کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ جب خشک سالی آتی ہے تو مویشی متاثر ہوتے ہیں، روزگار کے مواقع کم ہوجاتے ہیں، فصلوں کی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور خاندانوں کی آمدنی کم ہوجاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں بہت سے لوگ شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ کوئی خاندان بچوں کی تعلیم کے لیے شہر آتا ہے، کوئی علاج کے لیے، کوئی روزگار کی تلاش میں اور کوئی صرف اس لیے کہ شہر میں زندگی کی بنیادی سہولیات گاؤں کے مقابلے میں بہتر ہوتی ہیں۔ اگر کوئی خاندان دس یا پندرہ سال تک کسی شہر میں رہتا ہے تو انتظامی نظام کو بھی اس کی بدلتی ہوئی رہائش کو تسلیم کرنے کے لیے آسان راستہ فراہم کرنا چاہیے۔

ووٹ صرف پرچی نہیں، شہری حق ہے ووٹ کو صرف انتخابات کے دن استعمال ہونے والی ایک پرچی سمجھنا بڑی غلطی ہے۔ ووٹر لسٹ میں درست مقام پر رجسٹریشن کا مطلب یہ ہے کہ شہری اپنے علاقے کے سیاسی اور جمہوری عمل میں باقاعدہ حصہ لے سکے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات میں یہ مسئلہ مزید اہم ہوجاتا ہے، کیونکہ مقامی نمائندے انہی علاقوں کی سڑکوں، پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی مسائل کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں۔ جو شخص کسی شہر میں رہتا ہے، وہاں اپنی روزمرہ زندگی گزارتا ہے، اپنے بچوں کو وہیں تعلیم دلاتا ہے اور قانون کے مطابق دیگر شہری ذمہ داریاں ادا کرتا ہے، اس کی سیاسی نمائندگی بھی اسی علاقے سے منسلک ہونی چاہیے، بشرطیکہ وہ قانون کے تحت اس کے لیے اہل ہو۔

اب عملی قدم ضروری ہے، الیکشن کمیشن اور نادرا کی اس پیش رفت کے بعد سندھ حکومت کو چاہیے کہ تھرپارکر اور عمرکوٹ کے متاثرہ علاقوں میں واضح طریقہ کار جاری کرے۔

یونین کونسلوں کو واضح طور پر بتایا جائے کہ:

– رہائشی سرٹیفکیٹ کے لیے کون سے دستاویزات درکار ہوں گے؛

– تصدیق کا عمل کتنے وقت میں مکمل ہوگا؛

– فیس مقرر ہے یا نہیں؛

– درخواست کہاں جمع کرائی جائے گی؛

– درخواست مسترد ہونے کی صورت میں اپیل کہاں کی جائے گی؛

– اور شکایت کی صورت میں کون سا افسر ذمہ دار ہوگا۔

اسی کے ساتھ نادرا اور الیکشن کمیشن کو بھی چاہیے کہ عوام کے لیے آگاہی مہم چلائیں تاکہ غریب اور کم پڑھے لکھے خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ایک اہم موقع سریندر ولاسائی کی درخواست پر الیکشن کمیشن اور نادرا کے درمیان ہونے والی یہ پیش رفت تھرپارکر اور عمرکوٹ کے اندرونی نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے لیے ایک اہم موقع ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ فیصلہ صرف سرکاری خط تک محدود نہ رہے بلکہ عملی طور پر یونین کونسل کے دفتر، نادرا سینٹر اور ووٹر رجسٹریشن کے عمل تک پہنچے۔

تھر کے لوگوں نے برسوں سے خشک سالی، غربت اور نقل مکانی کی مشکلات برداشت کی ہیں۔ ان کے مسائل کا حل صرف امداد یا عارضی سہولت نہیں بلکہ ایسا انتظامی نظام بھی ہے جو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ان کے شہری حقوق کو تسلیم کرے۔

اگر رہائشی سرٹیفکیٹ کا نظام شفاف اور آسان طریقے سے نافذ کیا جاتا ہے تو یہ تھر اور عمرکوٹ کے ہزاروں خاندانوں کو ان کی موجودہ رہائش کے ساتھ قانونی اور جمہوری طور پر جوڑنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

آخرکار بات صرف ووٹر لسٹ کے ایک خانے میں پتہ تبدیل کرنے کی نہیں؛ بات ان خاندانوں کو یہ احساس دلانے کی ہے کہ وہ جہاں رہتے ہیں، وہاں ان کی آواز بھی سنی جائے، ان کے حقوق بھی تسلیم کیے جائیں اور جمہوریت میں ان کی شرکت بھی یقینی بنائی جائے۔

مزید خبریں

Back to top button