تھرپارکر:مٹھی میں مہنگائی اورآٹے کے من مانے نرخوں کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرپارکر میں مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے، آٹے کے من مانے نرخ مقرر کرنے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء مہنگی ہونے کے خلاف جماعت اسلامی کی جانب سے مٹھی میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے حکومت سے مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے کہا کہ تھر میں پہلے ہی خشک سالی کی صورتحال ہے، جبکہ مہنگائی نے غریب عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو گندم 2 ہزار روپے فی من خریدی جاتی تھی، اس سے تیار ہونے والا آٹا اس وقت مبینہ طور پر 7 ہزار روپے فی من فروخت کیا جا رہا ہے، لیکن اس صورتحال کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔ رہنماؤں نے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر حکمرانوں کے عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ تیل کی قیمتوں کا معاملہ وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے، لیکن آٹے کی قیمت مقرر کرنا اور اس کی نگرانی کرنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آٹا 7 ہزار روپے فی من فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ منتخب نمائندوں کی خاموشی کے باعث متوسط طبقہ، غریب مزدور اور محنت کش شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ مصنوعی مہنگائی نے عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے۔ مظاہرین نے حکومت اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ آٹے سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، مصنوعی مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی کی جائے اور تھرپارکر کے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔



