تھرکول کی 50 ارب روپے سے زائد رائلٹی تھر پر خرچ نہ ہونے کے خلاف پٹیشن دائر،عدالت کا نوٹس،19 نومبر کو رپورٹ طلب

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھرکول سے حاصل ہونے والی رائلٹی کی مد میں 50 ارب روپے سے زائد رقم جمع ہونے کے باوجود تھرپارکر کے عوام کی بحالی اور بنیادی سہولیات پر رقم خرچ نہ کیے جانے کے معاملے پر ہائی کورٹ بار میرپورخاص کے جنرل سیکریٹری کانجی مل میگھواڑ نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ درخواست پر عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 19 نومبر کو رپورٹ طلب کر لی ہے۔درخواست گزار کی جانب سے مبینہ طور پر تھرکول کی رائلٹی سے حاصل ہونے والی رقم مقامی آبادی کی فلاح و بہبود، متاثرین کی بحالی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خرچ نہ ہونے کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد تھرپارکر میں رائلٹی کی رقم کے استعمال اور مقامی آبادی کو اس کے فوائد کی فراہمی سے متعلق بحث مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تھرپارکر کے قدرتی وسائل سے بڑے پیمانے پر کوئلہ نکال کر بجلی پیدا کی جا رہی ہے، تاہم مقامی آبادی کو بجلی، پینے کے صاف پانی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق کوئلے کے منصوبوں سے متاثرہ آبادی کی بحالی اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہییں۔ مقامی حلقوں کے مطابق تھرکول کے منصوبوں سے 2600 میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرکے قومی گرڈ کو فراہم کی جا رہی ہے، لیکن اس کے باوجود منصوبوں کے قریب واقع بعض دیہات میں بجلی کی فراہمی کے مسائل برقرار ہیں۔ اس صورتحال پر شہریوں کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ علاقے کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد مقامی آبادی تک کس حد تک پہنچ رہے ہیں۔ علاقے میں بجلی کی ضروریات، رائلٹی کی رقم کے استعمال اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کے حصے سے متعلق شفافیت کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ رائلٹی کی رقم مقامی ترقی، متاثرین کی بحالی، صاف پانی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کی جانی چاہیے۔ اب عدالت میں 19 نومبر کو متعلقہ فریقین کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ اہمیت اختیار کر گئی ہے، جس سے رائلٹی کی رقم کے استعمال اور تھرپارکر کے عوام کے تحفظات سے متعلق صورتحال واضح ہونے کی توقع ہے۔



