مذاکراتی کمیٹی کے پی کی نمائندگی کیلئے علی امین کو شامل کرے،پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی

پشاور(جانوڈاٹ پی کے)خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے واضع کیا ہے کہ آئینی طور پر خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور پارٹی فیصلے کے مطابق صوبائی صدر جنید اکبر ہیں، حکومت سے مزاکرات کے لیے پارلیمانی پارٹی کو بھی نمائندگی دی جائے جبکہ مذاکراتی ٹیم کے لیے سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور کا نام تجویز کیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، جس میں صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نفاذ کے بعد کی صورت حال پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے حوالے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مرکزی قیادت ہر حکمتِ عملی اور مذاکراتی عمل میں صوبائی پارلیمانی پارٹی کی نمائندگی یقینی بنائے۔

اجلاس میں اکثریتی رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور مرکزی مذاکراتی عمل میں صوبے کی جانب سے نمائندہ نامزد کرکے شامل کیا جائے۔ اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ آئینی طور پر خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ان آئینی و تنظیمی عہدوں سے متعلق نہ تو قانونی اور آئینی طور پر کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔

صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے حوالے سے مرکزی سیکرٹری جنرل پاکستان تحریکِ انصاف سلمان اکرم راجہ کے حالیہ بیان اور ٹویٹ پر تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا گیا۔

پارلیمانی پارٹی نے چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف جناب بیرسٹر گوہر علی خان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور اراکین کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ سلمان اکرم راجہ اپنا بیان کو واپس لیتے ہوئے صوبائی پارلیمانی پارٹی سے معذرت کریں۔

پارلیمانی پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کی منتخب، دو تہائی اکثریت رکھنے والی صوبائی حکومت کے خلاف ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرکے شبِ خون مارا گیا، جو ایک غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

اجلاس میں پارٹی قیادت اور ذمہ داران سے مطالبہ کیا گیا کہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے فوری طور پر ایک واضح اور مؤثر احتجاجی لائحہ عمل دیا جائے، تاکہ موجودہ صورتحال کے خلاف سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو منظم کیا جا سکے۔

صوبائی پارلیمانی پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبے کے آئینی، جمہوری اور انتظامی حقوق کے تحفظ، منتخب قیادت اور کارکنوں کی بازیابی، قائد عمران خان اور دیگر اسیران کی رہائی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کے لیے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

مزید خبریں

Back to top button