مولانا فضل الرحمٰن کا احترام کرتا ہوں،دونوں صوبوں کے زمینی حقائق مختلف ہیں،سرفرازبگٹی

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود بھی دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ اس حساس قومی مسئلے پر رائے قائم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی ملحوظ رکھیں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ دونوں صوبوں کی حکومتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سیاسی قیادت کے طرزِ عمل اور عملی عزم کو سامنے رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف قومی مفاد کو ترجیح دینے کی اہم مثال ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، اہم فیصلوں اور متعلقہ معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، جبکہ حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری مختلف مواقع پر اس طرزِ عمل کا اعتراف کر چکے ہیں، جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کی حالیہ تقریر بھی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کی سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری اور کردار کو تسلیم کرتی ہے۔
ان کے مطابق جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں۔ امن و امان اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔



