دہشتگردی کے خلاف وفاقی پالیسی اب اون کریں گے،گورنرخیبرپختونخواکااعلان

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کے عوام کے لیے سرنگ سے نکل کر روشنی کی طرف آگئے ہیں، امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے اور اس مقصد کے لیے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی بھی کرنا پڑی تو گریز نہیں کریں گے۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سرحدی علاقوں سے متعلق مشکلات ضرور ہیں، تاہم وطن کی خاطر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخیں دینے والے پہلے ہی بدنام ہوچکے ہیں، اب صوبے کے عوام کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے کے عوام کی تجاویز سنی جائیں گی اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 سال سے وفاق کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جو پالیسی آتی رہی، اسے صوبائی سطح پر اون نہیں کیا جاتا تھا، تاہم اب اس پالیسی کی ذمہ داری قبول کریں گے اور اس پر عمل درآمد کے لیے کام کریں گے۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبے میں سردیوں کے دوران گیس کی لوڈشیڈنگ اور آٹے کی فراہمی جیسے مسائل حل کرنا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پہلے بھی وفاق کے ساتھ صوبے کے حقوق اور مسائل کے حوالے سے آواز اٹھاتے رہے ہیں اور آئندہ بھی اٹھاتے رہیں گے۔

گورنر کے مطابق صوبے میں ترقیاتی کام ضرور کیے جائیں گے، لیکن اس وقت امن کا قیام سب سے اہم ترجیح ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کے لیے درکار وسائل فراہم کیے جائیں گے، چاہے اس مقصد کے لیے ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں کمی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

پولیس میں افرادی قوت کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ خیبرپختونخوا پولیس میں تقریباً 17 ہزار آسامیاں خالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی خیبرپختونخوا پولیس کو بھرتیوں اور ترقیوں کے حوالے سے ہدایات دے دی گئی ہیں تاکہ پولیس کی استعداد کار بڑھائی جاسکے اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے۔

مزید خبریں

Back to top button