سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، وزیراعلیٰ ہاؤس میں45منٹ تک مکالمہ ہوتا رہا

سرکاری ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کے کمرے کا دروازہ توڑا گیا، تاہم انہیں نہ ہتھکڑی لگائی گئی اور نہ ہی قیدیوں کی گاڑی میں بٹھایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس افسران سہیل آفریدی کے ساتھ تقریباً 45 منٹ تک کمرے میں موجود رہے اور ان سے گفتگو کرتے رہے۔ بعدازاں انہیں احترام کے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر ایک محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران ایک پولیس افسر نے سہیل آفریدی سے سوال کیا کہ وہ لانگ مارچ کے ذریعے کہاں تک جانا چاہتے تھے۔ اس پر سہیل آفریدی سے منسوب جواب میں کہا گیا کہ لانگ مارچ اسلام آباد لے جانے کا ارادہ نہیں تھا، کیونکہ رات کے وقت مولانا فضل الرحمان کی حکومت کے ساتھ بات چیت ہوگئی تھی اور وفاقی حکومت بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور انہیں اسپتال منتقل کرنے کے مطالبات مان گئی تھی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سہیل آفریدی نے بتایا کہ پارٹی رہنماؤں سے بھی بات ہوئی تھی اور ہدایات ملتے ہی لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرنا تھا۔
پولیس ایکٹ میں ترمیم سے متعلق بھی سوالات
ذرائع کے مطابق پولیس افسران نے سہیل آفریدی سے پولیس ایکٹ میں ترمیم کرنے کے مقصد کے بارے میں بھی سوال کیا۔ اس پر ان سے منسوب جواب میں کہا گیا کہ وہ پولیس ایکٹ میں ترمیم نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ دباؤ ڈالنے کے لیے ایسا کیا گیا۔
دوسری جانب سرکاری ذرائع کے مطابق اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، جنید اکبر اور خالد خورشید کو اسپیکر ہاؤس سے حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنید اکبر اسپیکر ہاؤس میں کچن سے منسلک اسٹور میں موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر ہاؤس سے ایک رکن صوبائی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے ایک سوشل میڈیا اہلکار کو بھی تحویل میں لیا گیا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لینے کی کارروائی تقریباً دو گھنٹے میں مکمل کی گئی۔



