پولینڈ کے سٹارلنک کمیونیکیشن سٹیشن کو آگ لگانے کا الزام، دو ترک شہری جرمنی میں گرفتار

برلن(ویب ڈیسک) جرمنی میں پولینڈ کے سٹارلنک سیٹلائٹ کمیونیکیشن سٹیشن کو آگ لگانے کے شبہے میں دو ترک شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولینڈ نے واقعے کو ہائبرڈ وارفیئر اور ممکنہ تخریبی کارروائی سے جوڑتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے دونوں مشتبہ افراد کی گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے واقعے کو ہائبرڈ وارفیئر کا حصہ قرار دیا ہے۔ ہائبرڈ وارفیئر سے مراد روایتی جنگ کے علاوہ خفیہ سرگرمیوں، سائبر حملوں اور تخریبی کارروائیوں کے ذریعے کسی ملک کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہیں۔
پولینڈ کے وزیر داخلہ مارسن کیئرونسکی کے مطابق گرفتار دونوں افراد کو تخریب کاری اور غیر ملکی انٹیلی جنس سروس کے لیے جاسوسی کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں پولینڈ اور جرمنی کی سکیورٹی ایجنسیوں کے مشترکہ تعاون سے عمل میں آئیں۔
وسطی پولینڈ کے علاقے مازوویا میں واقع یہ کمیونیکیشن سٹیشن سرکاری ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ایکساٹیل کی ملکیت ہے۔ یہ سٹیشن پولینڈ کے علاوہ یوکرین کی جانب انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل میں بھی استعمال ہوتا ہے، جس کے باعث اسے مواصلاتی نظام کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر کے آخری حصے میں آگ لگنے کے واقعے کے باوجود سٹیشن فعال رہا۔ پولینڈ کے حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد یوکرین کی فوج سمیت مختلف اداروں کی انٹرنیٹ تک رسائی متاثر کرنا ہو سکتا تھا۔
تاہم حکام کی جانب سے اب تک اس بات کی حتمی تصدیق نہیں کی گئی کہ مبینہ تخریبی کارروائی کے پیچھے کسی غیر ملکی ریاست کا ہاتھ تھا۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور الزامات کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ کارروائی کے بعد ہوگا۔



