جنوبی کوریا کے ہائپر سونک میزائل تجربے کے بعد شمالی کوریا کے متعدد بیلسٹک میزائل فائر

سیول (ویب ڈیسک) جنوبی کوریا کے جدید ہائپر سونک میزائل سسٹم کے کامیاب تجربے کے چند روز بعد شمالی کوریا نے سمندر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل داغ دیے، جس کے بعد جزیرہ نما کوریا میں فوجی سرگرمیوں پر توجہ بڑھ گئی ہے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے ترجمان جنگ ڈو ینگ کے مطابق شمالی کوریا نے پیر کی صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً 9 بج کر 20 منٹ پر دارالحکومت پیانگ یانگ سے میزائل فائر کیے۔

ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی جائزے کے مطابق ان تجربات کا مقصد جنوبی کوریا کے ہائپر سونک میزائل سسٹم کے کامیاب تجربے پر ردعمل دینا اور اپنی دفاعی صلاحیتوں میں پیش رفت کا مظاہرہ کرنا ہو سکتا ہے۔

تاہم جنگ ڈو ینگ نے تصدیق نہیں کی کہ شمالی کوریا نے ہائپر سونک میزائل استعمال کیے یا درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار داغے۔ ان کے مطابق میزائلوں کی نوعیت اور تکنیکی تفصیلات جاننے کے لیے مزید تجزیہ جاری ہے۔

کورین میڈیا کی رپورٹ کے مطابق داغے گئے میزائلوں میں سے ایک نے 900 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کیا اور مشرقی سمندر کی جانب پرواز کی۔

دوسری جانب جنوبی کوریا نے حال ہی میں اپنے ہائپر سونک میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا تھا، جس کا مقصد میزائل کی رفتار، پرواز کے راستے اور دیگر اہم ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو جانچنا تھا۔ جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے بھی اس تجربے کا مشاہدہ کیا تھا۔

جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق ہائپر سونک میزائل آواز کی رفتار سے کم از کم پانچ گنا تیز سفر کر سکتے ہیں اور دورانِ پرواز اپنی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے باعث روایتی بیلسٹک میزائلوں کے مقابلے میں ان کا سراغ لگانا اور انہیں روکنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

شمالی کوریا کے حالیہ میزائل تجربات کی نوعیت اور مقاصد کے بارے میں حتمی صورتِ حال مزید تکنیکی تجزیے کے بعد واضح ہونے کا امکان ہے۔

مزید خبریں

Back to top button