یورپ میں سستی الیکٹرک گاڑیوں کی دوڑ تیز

پیرس(ویب ڈیسک) عالمی آٹوموبائل کمپنی اسٹیلانٹس نے یورپی مارکیٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور کم قیمت چینی الیکٹرک گاڑیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سستی الیکٹرک کاریں متعارف کرانے پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی نے پیرس موٹر شو سے قبل منعقدہ ایک تقریب میں اپنی نئی کاروباری حکمت عملی پیش کی، جہاں چیف ایگزیکٹو انتونیو فیلوسا نے متعدد نئے ماڈلز اور کانسیپٹ گاڑیوں کی نمائش کی۔
اسٹیلانٹس کی جانب سے پیش کیے گئے تصورات میں سٹروئن کی مشہور 2CV گاڑی کا نیا الیکٹرک تصور خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔ رپورٹ کے مطابق یہ گاڑی یورپ میں کم قیمت الیکٹرک کاروں کی تیاری کے منصوبے کا حصہ ہے اور اسے 2028 میں متعارف کرائے جانے کی توقع ہے۔
کمپنی کی مجوزہ حکمت عملی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کی ایک نئی کیٹیگری تقریباً 15 ہزار یورو، یعنی 16 ہزار 800 امریکی ڈالر کے لگ بھگ قیمت پر پیش کرنے کا تصور شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان صارفین کو بھی الیکٹرک گاڑیوں کی طرف راغب کرنا ہے جو زیادہ قیمتوں کے باعث اب تک انہیں خریدنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔
پیرس موٹر شو میں کمپنی نے ڈی ایس 7، فیاٹ گرزلی، لانسیا گاما، اوپل کورسا جی ایس ای اور اپنے چینی شراکت دار لیپ موٹر کے مختلف ماڈلز بھی پیش کیے۔
رپورٹ کے مطابق اسٹیلانٹس کو گزشتہ برسوں کے دوران یورپ اور شمالی امریکا میں فروخت اور مارکیٹ شیئر کے حوالے سے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے 2030 تک کے کاروباری منصوبے میں متعدد نئے ماڈلز متعارف کرانے، اخراجات کم کرنے اور چینی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
کمپنی کی مالی صورت حال بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیلانٹس کے حصص رواں ماہ 3.81 یورو کی سطح تک گر گئے، جو 2021 میں کمپنی کے قیام کے بعد ان کی کم ترین سطح تھی۔
ماہرین کے مطابق سستی الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری یورپی کار ساز اداروں کے لیے ایک اہم چیلنج ہے، کیونکہ انہیں قیمت کم رکھنے کے ساتھ معیار، کارکردگی اور حفاظت کے تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔
اسٹیلانٹس کی نئی حکمت عملی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کمپنی کم قیمت گاڑیوں کے ذریعے صارفین کی توجہ حاصل کرنے، فروخت بڑھانے اور منافع میں بہتری لانے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔



