خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیوں لگائی؟ اعظم نذیر تارڑ نے وجوہات بتا دیں

اسلام آباد میں وفاقی وزرا محسن نقوی اور عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا نے خط کے ذریعے اہم معلومات فراہم کی تھیں، جس کے بعد صدر مملکت نے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اقدام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں آئینی بحران ہے، لیکن بعض عناصر حالات کے بجائے اپنی سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبے پر بیرونی حملے یا اندرونی خلفشار کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال ایسی تھی کہ ایمرجنسی کا نفاذ ضروری ہوگیا تھا۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے گورنر کو خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کا اختیار دے دیا ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت افواج پاکستان کو گورنر کی معاونت کا حکم دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جائے گا اور تمام معاملات پارلیمان کے سامنے رکھے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا بھی ارادہ ہے۔
وفاقی وزیر قانون کے مطابق دہشت گردی سے شدید متاثرہ 12 اضلاع میں سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے، جہاں ایریا ریجنل ڈویلپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) بھی تشکیل دی گئی ہے۔ ان اضلاع میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری بطور ایڈمنسٹریٹر کام کریں گے، جبکہ کونسل کی نگرانی گورنر خیبر پختونخوا کریں گے۔
پی ٹی آئی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں، دہشت گردوں سے گٹھ جوڑ ہے، عطا اللہ تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے غیر سنجیدہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے انتظامی حالات تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تمام سیاسی جماعتوں پر حملے ہوئے، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ تحریک انصاف پر حملے کیوں نہیں ہوئے؟ ان کے بقول پی ٹی آئی کے تانے بانے دہشت گردوں سے جاملتے ہیں اور اس کی دہشت گردوں کے ساتھ شراکت داری ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ یہ بیرونی طاقتوں کے فنڈ سے چلنے والے لوگ ہیں جو ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بالکل غیر سنجیدہ ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے پولیس ایکٹ پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد پی ٹی آئی کے حامیوں کو پولیس فورس میں جگہ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس گروہ سے نجات حاصل ہوئی ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ٹیکنوکریٹ صوبے کا روشن ستارہ ہے اور اس کی سلیکشن میرٹ پر کی گئی ہے۔



