طالبہ سے فراڈ کا کیس ٹیسٹ کیس قرار، محسن نقوی کی ذاتی نگرانی میں تحقیقات کا اعلان

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے طالبہ کے گھر جاکر اہل خانہ سے ملاقات کی اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے آئے ہیں کہ فراڈ میں ملوث شخص جلد قانون کی گرفت میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کی ذاتی طور پر نگرانی کریں گے اور تحقیقات میں سامنے آنے والی اہم تفصیلات بھی جلد عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ملزم نے جس انداز میں مبینہ جعلسازی کی، یہ متعلقہ اداروں کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے سمیت تمام متعلقہ ادارے اس معاملے پر کام کررہے ہیں، جبکہ وزیراعظم نے بھی انہیں طلب کرکے ملزم کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ طالبہ کے ساتھ فراڈ کرنے والا کوئی باقاعدہ ایجنٹ نہیں بلکہ ایک نوسرباز تھا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور عوام کو مزید تفصیلات فراہم کرنے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔ ان کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل بھی جلد پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔
انہوں نے این سی سی آئی اے کی افرادی قوت اور وسائل کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پورے پنجاب کے لیے صرف 61 افراد موجود ہیں اور دفاتر و بیٹھنے کی مناسب جگہوں کی بھی کمی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی محدود افرادی قوت کے ساتھ پورے صوبے میں سائبر جرائم کی شکایات کو مؤثر طریقے سے کیسے نمٹایا جاسکتا ہے۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ حکومت سائبر جرائم سے متعلق شکایات کے فوری ازالے کے لیے اقدامات کررہی ہے اور ایسی شکایات کو پاک آئی ڈی کے ذریعے حل کرنے کے نظام پر بھی کام جاری ہے۔غیرقانونی امیگریشن کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ یورپی یونین نے تسلیم کیا ہے کہ اس مسئلے پر تقریباً 70 فیصد پیش رفت ہوئی ہے اور ماضی کے مقابلے میں صورت حال میں نمایاں فرق آیا ہے۔



