ایئرپورٹس پر مسافروں کے لیے بڑی تبدیلی، کسٹمز کی پوچھ گچھ ختم کرنے اور اسمارٹ اسکینرز فوری نصب کرنے کا حکم

اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیر صدارت کسٹمز نظام کے جائزہ اجلاس میں شہباز شریف نے ہدایت کی کہ سامان کی جانچ اسمارٹ اسکینرز کے ذریعے کی جائے اور کسٹمز حکام غیرضروری پوچھ گچھ کرکے مسافروں کو پریشان کرنے سے گریز کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مسافروں کی سہولت اور آرام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی انہیں بلاوجہ تنگ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اسمارٹ اسکینرز فوری طور پر فضائی راستے سے پاکستان منگوا کر تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر نصب کرنے کی ہدایت کی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹس پر تعینات عملے کی بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت کی جائے اور سروس کی فراہمی میں شائستگی اور انسانی احترام کو تربیت کا لازمی حصہ بنایا جائے۔
اجلاس میں کسٹمز انفورسمنٹ فورس کی کارکردگی اور پٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ روکنے کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام کے مطابق ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام اور فعالیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈس کلکٹریٹ انفورسمنٹ نے اپنے قیام کے ابتدائی تین ہفتوں میں 80 کارروائیوں کے دوران تقریباً 20 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی اشیا ضبط کیں۔ اس مقصد کے لیے 865 اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ 26 اہم راہداریوں کا احاطہ کیا گیا۔
حکام کے مطابق اسمگل شدہ کپڑوں، گاڑیوں، سگریٹس، ہائی اسپیڈ ڈیزل، آٹو پارٹس اور دیگر اشیا کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ کسٹمز اصلاحات کے تحت 280 گڈز ایویلیوٹرز کی بھرتی بھی مکمل کرلی گئی ہے، جن کی تربیت اکتوبر اور نومبر 2026 میں ہوگی۔
وزیراعظم نے کسٹمز کے نئے انفورسمنٹ نظام کو سراہتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ محصولات کی چوری روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا، ٹیکس ادا کرنے والے کاروبار قابلِ احترام ہیں جبکہ ٹیکس چوری کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔



