عطا تارڑکاپی ٹی آئی پر خیبرپختونخوا میں بدامنی کا الزام،13سالہ دورِ حکومت پرسوالات اٹھا دیے

اسلام آباد (جانو ڈاٹ پی کے)وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال پر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی پالیسیوں کے باعث صوبے میں دہشت گرد عناصر کو مضبوط ہونے کا موقع ملا، جبکہ انسداد دہشت گردی کے لیے ضروری اقدامات بھی نظرانداز کیے گئے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف نے دہشت گردوں کو خیبرپختونخوا کی رہائشی آبادیوں میں لاکر آباد کیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی معاون جماعت قرار دیتے ہوئے صوبے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد کی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے انسداد دہشت گردی کے انتظامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو مؤثر بنانا، فرانزک لیبارٹری کی سہولت فراہم کرنا اور پولیس کو جدید ہتھیاروں سے لیس کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی، تاہم ان شعبوں میں مطلوبہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

عطا تارڑ نے خواتین سے متعلق صوبائی حکومت کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ طالبان کا خواتین سے متعلق نظریہ پورے خیبرپختونخوا پر مسلط کردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی طویل حکمرانی کے باوجود صوبہ ایسے حالات سے دوچار ہے جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ نے صوبائی ترقی کے لیے وقت مختص نہیں کیا، جبکہ تخریب کاری سے متعلق سرگرمیوں پر مسلسل چھ چھ گھنٹے اجلاس کرتے رہے۔ انہوں نے صوبے کی موجودہ صورت حال کا ذمہ دار پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ حکومت کو قرار دیا۔

عطا تارڑ نے کہا کہ ماضی میں خیبرپختونخوا امن کا گہوارہ اور باعثِ فخر صوبہ تھا، لیکن ان کے بقول تحریک انصاف نے 13 سال میں صوبے کو ترقی کے بجائے پسماندگی کی طرف دھکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام ترقی کے مواقع کے منتظر ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف عوام کی خدمت کے لیے دن رات مصروف ہیں اور مستحق افراد کو پیٹرول پر سبسڈی بھی فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی کے طرزِ حکمرانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوپہر 12 بجے ہیلی کاپٹر کے ذریعے دفتر آتے اور شام 5 بجے واپس چلے جاتے تھے۔

عطا تارڑ نے سوال اٹھایا کہ لکی مروت سے صوابی تک آئی ٹی پارکس کیوں قائم نہیں کیے گئے؟ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام غربت اور دہشت گردی کے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button