گورنر راج نہیں چاہتے مگروزیراعلیٰ کے پی ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں،بلاول بھٹو

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے حق میں نہیں، تاہم بظاہر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا طرزِ سیاست ایسے حالات پیدا کر رہا ہے جن میں گورنر راج کی بات کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سے پوچھنا چاہیے کہ وہ گورنر راج کیوں چاہتے ہیں، جبکہ اس آئینی آپشن کو آخری حل کے طور پر ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔
بلدیہ ٹاؤن میں اسپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کراچی کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ بلدیاتی نظام کے تحت نوجوانوں کے لیے اسپورٹس کمپلیکس کا قیام خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی شہر میں نفرت اور تقسیم کے بجائے مثبت سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہے، جبکہ نوجوانوں کو جرائم میں ملوث ہونے سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بلاول بھٹو نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان کو جنگی نوعیت کے حالات کا سامنا ہے۔ ان کے بقول وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے کردار نے سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض سیاسی قوتیں انتہاپسندی کی سیاست کر رہی ہیں، جس کا نقصان خود تحریک انصاف کو پہنچ رہا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات میں ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے کردار کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاہدے اور مذاکرات آگے بڑھنے چاہئیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جاسکے۔
بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف پر زور دیا کہ وہ انتہاپسندی کی سیاست ترک کرکے پارلیمانی اور جمہوری عمل میں حصہ لے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی انتخابی دھاندلی روکنے میں سنجیدہ ہے تو اسے انتخابی اصلاحات کمیٹی کا حصہ بننا چاہیے۔ ان کے مطابق کراچی میں بھی انتخابی اصلاحات کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جیل میں قید ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص ہمیشہ جیل میں رہے گا۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی 14 سال جیل میں گزارے، تاہم بلاول کے بقول اگر پی ٹی آئی نے انتہاپسندی کی سیاست جاری رکھی تو بانی پی ٹی آئی کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے کارکنوں اور سیاسی مینڈیٹ کی نمائندگی جاری رکھے گی۔
صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں عوام نیا صوبہ چاہتے ہیں وہاں تاخیر نہیں ہونی چاہیے، تاہم جہاں عوام اس کے حق میں نہیں وہاں زبردستی فیصلہ مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پیپلز پارٹی ایمرجنسی کے نفاذ میں دلچسپی رکھتی تو صدر مملکت کے آئینی اختیار کے ذریعے یہ قدم اٹھایا جاسکتا تھا، لیکن ان کی تجویز پر ایمرجنسی کے نفاذ سے گریز کیا گیا۔
بلاول بھٹو نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوام کو ریلیف نہیں مل رہا تو اس کی وجوہات کا جائزہ لینا ہوگا۔



