ڈیپوٹیشن پر تعینات سیکشن افسران کی واپسی کا کیس: جج کو فون کالز اور اپروچ کیے جانے پر جسٹس ارباب محمد طاہر برہم، سماعت سے معذرت

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات سیکشن افسران کو متعلقہ صوبوں میں واپس بھیجنے کے فیصلے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے جج کو مبینہ طور پر اپروچ کیے جانے کا معاملہ سامنے آگیا۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کیس سننے سے معذرت کرلی اور فائل چیف جسٹس آفس بھجوا دی۔

سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست گزاروں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سفارشیں کروانا اور فون کالز کے ذریعے جج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرنا نامناسب ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزاروں نے انہیں اپروچ کرنے کی کوشش کی اور فون کالز بھی کروائیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

درخواست گزاروں کے وکیل راجہ علیم خان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈیپوٹیشن پر تعینات سیکشن افسران بنیادی طور پر اساتذہ ہیں، جنہیں متعلقہ صوبوں میں واپس بھیجنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق درخواست گزاروں نے متعلقہ محکموں میں واپس بھیجنے کے نوٹیفکیشن کو عدالت میں چیلنج کیا ہے اور وہ مستقل تعیناتی چاہتے ہیں۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے وکیل کے مؤقف پر کہا کہ دیگر معاملات اپنی جگہ، تاہم جج کو فون کالز کروا کر اپروچ کرنے کی کوشش نامناسب ہے۔ بعدازاں انہوں نے کیس کی سماعت سے معذرت کرتے ہوئے فائل چیف جسٹس آفس کو بھجوا دی تاکہ معاملے پر مزید کارروائی کی جاسکے۔

درخواست گزاروں میں خالد محمود، محمد عارف، دلشاد احمد، سعید چوہدری، ڈاکٹر محمد اسماعیل اور نجیب اللہ سمیت دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کے بعد متعلقہ صوبوں میں واپسی کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button