اپوزیشن کا آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز پر مشاورت کا فیصلہ

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے انعقاد کی تجویز پر مشاورت کا فیصلہ کر لیا۔
اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمہوری اور سیاسی قوتیں مذاکرات پر یقین رکھتی ہیں اور ہم بات چیت کے عمل سے اصولی طور پر اختلاف نہیں کرتے، تاہم حکومت کے موجودہ رویے کے باعث آئندہ مذاکرات کی گنجائش کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے مختصر ملاقات ہوئی ہے، ملک کی سیاسی صورتحال عدم توازن کا شکار ہے جبکہ حکومت کا حزب اختلاف کے ساتھ رویہ بھی سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات سیاسی لب و لہجے میں ہونے چاہئیں اور پس پردہ قوتوں کی مداخلت کے بغیر بات چیت کو آگے بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات اسی صورت نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں جب ان میں کچھ لینے اور کچھ دینے کی بنیاد پر پیش رفت کی جائے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز سامنے آئی ہے، جس پر وہ اپنی جماعت سے مشاورت کریں گے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی اس تجویز پر تفصیلی غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوتی ہے تو تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے مشترکہ ایجنڈا اور لائحہ عمل طے کیا جانا چاہیے تاکہ ملک میں سیاسی معاملات میں میانہ روی پیدا ہو اور قومی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تمام پاکستانی برابر ہیں اور کسی کی وفاداری کو مشکوک قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہم آئین اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملکی مفاد میں آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لانگ مارچ اور احتجاج سیاسی و جمہوری حق ہے، اگر پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد آنا چاہتی ہے تو اصولی طور پر اسے اجازت ملنی چاہیے۔
دوسری جانب علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس کی دعوت دینے کے لیے آئے تھے۔ ملک کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں، اس لیے سیاستدانوں کو مل کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔



