ایپسٹین سے روابط ، ناروے کے وزیراعظم سمیت 11 وزراء پارلیمنٹ میں طلب

اوسلو (ویب ڈیسک) ناروے کی پارلیمنٹ نے امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ناروے کے سفارت کاروں اور سیاست دانوں سے مبینہ روابط کے معاملے پر عوامی سماعت کا آغاز کر دیا ہے۔
ایپسٹین سے متعلق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے رواں سال جنوری میں لاکھوں دستاویزات جاری کیے جانے کے بعد مختلف ممالک میں اس کے بااثر شخصیات سے روابط کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔ جاری ہونے والی دستاویزات میں دنیا بھر کے سیاست دانوں، شاہی خاندانوں اور دولت مند شخصیات سے ایپسٹین کے روابط سے متعلق معلومات سامنے آئی تھیں۔
ناروے میں ان انکشافات کے بعد پارلیمانی سطح پر معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے 11 موجودہ اور سابق وزرائے خارجہ و ترقیاتی امور کو وضاحت کے لیے طلب کیا ہے، جن میں موجودہ وزیراعظم جوناس گار اسٹورے بھی شامل ہیں۔ اسٹورے 2005 سے 2012 تک ناروے کے وزیر خارجہ کے منصب پر بھی فائز رہے۔
پارلیمانی تحقیقات کے علاوہ ناروے کی پولیس بھی معاملے کی الگ سے تحقیقات کر رہی ہے۔
پارلیمنٹ کی نگرانی و آئینی امور کی کمیٹی کی سماعت کی قیادت کرنے والے جوناس اینڈرسن نے کہا ہے کہ حکومت کو وزارت خارجہ پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی وضاحت کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق ایپسٹین سے دوستی یا روابط رکھنے والی شخصیات کے بعض فیصلے انتہائی ناقص ثابت ہوئے۔
دوسری جانب وزیراعظم جوناس گار اسٹورے نے ایک بار پھر ایپسٹین سے کسی بھی تعلق کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا امریکی جنسی مجرم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔
وزیراعظم کے مطابق موجودہ صورتحال وزارت خارجہ میں کسی نظامی خرابی کے بجائے چند افراد کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نشاندہی کیے گئے بعض مسائل حل کیے جا چکے ہیں جبکہ دیگر کے تدارک کے لیے اقدامات جاری ہیں، جن میں فیصلہ سازوں کے مفادات کے ٹکراؤ سے متعلق قواعد میں تبدیلی بھی شامل ہے۔



