مصر میں1700سال قدیم مقبرہ دریافت،نایاب یونانی تحریر بھی برآمد

قاہرہ (جانو ڈاٹ پی کے)مصر کے مغربی صحرائی علاقے میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے تقریباً 1700 سال قدیم مقبرہ دریافت کرلیا، جس سے رومی دورِ حکومت کے دوران خطے میں رائج تدفینی رسومات اور ثقافتی روایات سے متعلق اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔

آثارِ قدیمہ کے مطابق اہرام نما چونے کے پتھروں سے تعمیر کیا گیا یہ مقبرہ ایک بااثر شخص اور اس کی اہلیہ کی تدفین کے لیے بنایا گیا تھا۔ مقبرے کی منفرد تعمیر کے علاوہ یہاں نایاب تحریری نقوش اور تدفینی متون بھی دریافت ہوئے ہیں۔

کھدائی کے دوران ماہرین کو قدیم یونانی زبان میں تحریر شدہ ایک پتھر کی تختی بھی ملی، جس پر کندہ تحریر کو اس مقام کی تاریخی اہمیت کے حوالے سے اہم دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔

مقبرے سے مردوں کے لیے مخصوص ایک تدفینی میز، ریتلے پتھر کو دھونے کے لیے استعمال ہونے والا بیسن اور مختلف اقسام کے برتن بھی برآمد ہوئے ہیں، جو اس دور کے تدفینی طریقوں اور روزمرہ ثقافتی روایات کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔

دریافت ہونے والی اشیا میں کانسی کا ایک سکہ بھی شامل ہے جس پر رومی شہنشاہ قسطنطین کی تصویر کندہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سکہ مقبرے کے تاریخی دور کے تعین میں مزید مدد فراہم کرسکتا ہے۔

مصر کے وزیرِ سیاحت و نوادرات شریف فتحی کے مطابق یہ دریافت ان مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے تسلسل کی ایک جھلک پیش کرتی ہے جن سے مصر مختلف تاریخی ادوار کے دوران گزرتا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button