گورنر راج کی گھنٹی؟ فیصل کریم کنڈی نے صدر اور وزیراعظم کے حکم سے متعلق بڑا بیان دیدیا

 پشاور (جانو ڈاٹ پی کے)گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر صدر پاکستان اور وزیراعظم حکم دیں تو صوبے میں گورنر راج نافذ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔پشاور میں سرحد چیمبر میں فیسیلیٹیشن سینٹر کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں اور صوبہ مسلسل جانی نقصان کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کو صوبے کی صورتحال پر تحفظات ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ان کے خیال میں موجودہ حالات میں صوبے میں امن و امان قائم کرنا اہم ہے، جبکہ امن کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اپنا کردار ادا کریں گے۔ گورنر راج سے متعلق ان کا یہ مؤقف اس سے قبل دیے گئے بیانات سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ آئین میں اس کی گنجائش موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر وفاقی سطح پر فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے ڈی آئی خان میں پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے دہشت گردی کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے افغانستان سے مبینہ طور پر دہشت گردی آنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ کے اختیارات سے متعلق بیان پر بھی تنقید کی۔ گورنر کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعلیٰ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس اختیار نہیں تو انہیں اس بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔

لانگ مارچ سے متعلق فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی 4 اکتوبر کو بھی مارچ نہیں کر پائے گی۔ تاہم پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ مارچ کی تاریخ اور طریقہ کار کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی 4 اکتوبر کے لیے تیاری کا ذکر کیا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button