رات گئے ملاقات سے اپارٹمنٹ تک، غیر ملکی خاتون نے عدالت میں کیا بیان دیا؟

لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں غیر ملکی خاتون کا دفعہ 164 کے تحت چار صفحات پر مشتمل بیان جوڈیشل مجسٹریٹ محمد صغیر کی عدالت میں گزشتہ روز ریکارڈ کرلیا گیا، جس میں خاتون نے پاکستان آمد، مختلف شہروں میں قیام اور لاہور میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق تفصیلات بیان کی ہیں۔
خاتون کے مطابق وہ 13 تاریخ کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی، جہاں سے فیصل آباد گئی اور پانچ روز قیام کے بعد لاہور آگئی۔ خاتون نے بیان میں کہا کہ اس کا اسکردو جانے کا منصوبہ تھا، تاہم وہ اکیلی تھی۔
بیان کے مطابق خاتون نے نمرہ اور مسکان سے رابطہ کیا اور لاہور میں ملاقات ہوئی۔ خاتون کے مطابق وہ رات تقریباً 11 بجے اکیلے ایک کیفے گئی، جہاں مسکان اس کے پاس آئی۔ بعد ازاں دونوں بحریہ ٹاؤن میں نمرہ کے پاس پہنچیں اور رات تقریباً 2 بجے کھانا کھایا۔
خاتون نے اپنے بیان میں کہا کہ اسی دوران سفید رنگ کی ایک گاڑی وہاں آئی، جس میں محسن اور احمد نامی دو افراد موجود تھے۔ ان کے ساتھ ایک اپارٹمنٹ جانے کے بعد مزید دو افراد وہاں آئے، جن میں ایک کا نام علی بتایا گیا جبکہ دوسرے کا نام معلوم نہیں تھا۔
خاتون کے مطابق اپارٹمنٹ میں نمرہ اور محسن الگ کمرے میں بات کرنے لگے اور محسن نے نمرہ کو 20 سے 30 ہزار روپے دیے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس نے رقم لینے سے انکار کیا اور شراب سمیت کسی چیز کی ضرورت نہ ہونے کا کہا، جس کے بعد محسن اسے الگ کمرے میں لے گیا۔
بیان میں خاتون نے الزام عائد کیا کہ محسن نے اسے کمرے میں بند کیا اور مبینہ طور پر اسے چھونے کی کوشش کی۔ بعد ازاں وہ ایک دوسرے کمرے میں گئی جہاں مزید تین افراد موجود تھے۔ خاتون کے مطابق اس نے نمرہ اور مسکان کے بارے میں پوچھا تو اسے بتایا گیا کہ دونوں جاچکی ہیں۔
خاتون کے بیان کے مطابق جب اس نے وہاں سے جانے کی اجازت مانگی تو اسے کہا گیا کہ وہ نہیں جاسکتی کیونکہ اس کی دوست رقم لے کر گئی ہے۔ خاتون نے مبینہ طور پر 30 ہزار روپے دینے کی پیشکش کی، تاہم اسے جواب دیا گیا کہ اس کی دوست اس سے زیادہ رقم لے کر گئی ہے اور اس سے قبل بھی رقم دی جاچکی ہے۔
خاتون کے یہ بیانات عدالت میں دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے ہیں، جبکہ واقعے سے متعلق الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے مراحل میں ہوگا۔



