میر رضا کے قاتلوں پر آج تک پردہ ڈالا جا رہا ہے، جبران ناصر

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اب تک جوڈیشل کمیشن میں سامنے آنے والی باتوں میں اہلخانہ نے پولیس پر کوئی بہتان نہیں لگایا، تاہم ان کے بقول قاتلوں پر آج تک پردہ ڈالا جا رہا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ کمیشن میں کیس کے تفتیشی افسر سراج لاشاری اور سی پی ایل سی کے افسر کاشف کا بیان ہونا تھا، جبکہ اعلیٰ پولیس افسران کو سوالنامہ بھی بھیجا جانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 2 ستمبر کو کمیشن نے چیف جسٹس کو کمیشن کی مدت میں توسیع کی درخواست سے آگاہ کیا تھا، جبکہ تفتیش میں سامنے نہ آنے والے کئی نئے ناموں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
جبران ناصر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے کمیشن کی مدت میں توسیع کی سمری منظور کرلی ہے، تاہم کابینہ کا اجلاس یکم اکتوبر کو ہوگا جس میں توسیع سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کی تشکیل کی منظوری ایک روز میں لی گئی تھی، اسی طرح توسیع کی منظوری بھی دی جاسکتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اعلیٰ پولیس افسران سے متعلق سوالات کے جوابات طلب کیے جائیں گے اور نامکمل جواب آنے کی صورت میں اس پر بھی سوال اٹھیں گے۔ ان کے بقول متعلقہ سینئر پولیس افسران کو کمیشن کے سامنے پیش ہونا چاہیے۔
جبران ناصر نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کمیشن میں پیش ہوچکے ہیں اور سوالنامہ بھی کمیشن میں جمع کرایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق قاتلوں کو اب تک سامنے نہیں لایا گیا، جبکہ سپر میڈیکل بورڈ بنا کر ڈاکٹر سمیہ سمیت تمام متعلقہ ڈاکٹرز کے بیانات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
جبران ناصر نے تحقیقات میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جہاں سے میر رضا کی لاش ملی وہاں متعدد گلیاں ہیں، اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ کتنے کیمروں کی فوٹیج محفوظ کی گئی اور کتنی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے پولیس حکام سے متعلق بھی مختلف سوالات اٹھائے اور کہا کہ سینئر پولیس افسران کو کمیشن کے سامنے پیش ہوکر اپنے مؤقف کی وضاحت کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے پولیس تفتیش، سی سی ٹی وی فوٹیج اور میڈیکل شواہد سمیت مختلف امور پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کمیشن کی مدت میں توسیع کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے 15 اکتوبر تک توسیع کی درخواست بھی سامنے آئی ہے۔



